تحریکِ انصا ف کے دعوے اور کا رکر دگی

تحریکِ انصا ف کے دعوے اور کا رکر دگی

یادش بخیر،پا کستا ن تحر یکِ انصا ف کے معرضِ و جو د میں آ نے سے پہلے، بلکہ بہت بعد تک بھی پا کستان کی سیا ست دو بڑی پا رٹیو ں مسلم لیگ ن اور پا کستان پیپلز پا رٹی کے گرد گھومتی رہی۔ حا لا ت کی نو عیت کچھ اس قسم کی تھی کہ کسی بھی نئی پا رٹی کا وجود میں آ کر اپنا لوہا منوا لینا  قریب قریب ایک نا ممکن امر تھا۔ ایسا نہیں کہ دنیا کے کسی ملک میں اس طر ح کے حا لا ت میں کو ئی نئی سیا سی پا رٹی پنپ نہیں سکتی۔ با لکل پنپ سکتی ہے، تا ہم اس کے لیے اس کے پاس ایک مضبو ط منشو ر کا ہونا ضر وری ہو تا ہے۔ مگر تحر یکِ انصا ف کے با نی عمرا ن خا ن کے پاس کیا کوئی منشو ر تھا۔ کو ئی بھی تو نہیں تھا، سوا ئے عوا م کو یہ با ور کرانے کے کہ بر سرِ اقتدار آ جانے کی صورت میں کسی کرپٹ کو نہیں چھو ڑ وں گا۔ مگر اب ان کے برسرِ اقتدار آ جانے کے بعد ہو کیا رہا ہے؟ ان کے قریبی رفقا اور وزرا ء نے لو ٹ ما رکی وہ اندھی مچا دی ہے کہ اب پارٹی کے اندر ہی ان کے خلاف کھلم کھلا با تیں ہو نا شر وع ہو چکی ہیں۔ حتیٰ کہ میڈ یا کے سا منے بھی پارٹی کے لو گ ان کا دفا ع کر نے کا تیا ر نہیں۔ اور پھر سرکاری سطح پر جس قسم کے فیصلے کیے جا رہے ہیں اس سے تو یہی سجھائی دیتا ہے کہ ان دنو ں حکو مت کی با گ ڈور انتہا ئی نا تجر بہ کا ر لو گو ں کے ہا تھ میں ہے۔ آئے دن پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حد درجہ بے حکمتی کے ساتھ تمام قاعدوں اور ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یکایک بے پناہ اضافے سے موجودہ دورِ حکومت کے آغاز ہی سے جاری سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی فضا ایک نئے بھونچال سے دو چار ہو گئی تھی۔اور اب قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے کٹوتی کی تحریکوں پر تقاریر کے دوران حکومت کی سخت خبر لیتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافوں کو عوام کی جیبوں پر ڈاکہ قرار دیتے ہوئے ناقابل قبول ٹھہرایا اور الزام لگایا کہ آئل کمپنیوں سے ملی بھگت کرکے کم قیمت پر ذخیرہ کیے گئے تیل کو قیمت بڑھائے جانے کے بعد بیچنے کا موقع فراہم کرکے ان کمپنیوں کے لیے ناجائز منافع کا راستہ کھولا گیا ہے۔ میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو نے بھی اپنے بیانات میں اسی موقف کا اظہار کیا ہے۔ اپوزیشن ارکان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے پٹرول بم گرا کر زبوں حال قومی معیشت کو بالکل ہی زمین بوس کرنے کا بندوبست کر دیا ہے۔ ہماری صنعتیں جو پہلے ہی بنگلا دیش اور دیگر ملکوں کو منتقل ہورہی ہیں، پٹرولیم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اس عمل کو مزید تیز کر دے گا اور ملک میں برپا مہنگائی کا طوفان کسی حد پر نہیں رکے گا لیکن یو ٹرن لیتی حکو مت کا موقف ہے کہ عا لمی صورتِ حا ل کے حو الے سے پاکستان میں آج بھی تیل کے نرخ تمام پڑوسی ملکوں سے کم ہیں۔ چنانچہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے استعفے کا مطالبہ کیا اور تحریک انصاف کو کسی اور قائد کے انتخاب کا مشورہ دیا۔ واقعہ یہ ہے کہ ملک کی معاشی اور سیاسی صورتحال کی ابتری ہر ہوش مند شخص کو بچشم سر نظر آ رہی 

ہے۔ محض کورونا کو اس کا سبب قرار دینا کھلے حقائق کے منافی ہے۔ نجی شعبہ اس دور میں سرگرم ہو ہی نہیں سکا جبکہ سرکاری شعبے کا انحطاط محتاج بیان نہیں۔ معیشت کی شرح ترقی منفی ہو چکی ہے جس کے نتائج کا تصور بھی ہولناک ہے۔ تحریک انصاف جن دعوؤں اور وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی ان میں سے کوئی بھی حقیقت نہیں بن سکا۔ وزیراعظم چار سال میں اپنی ٹیم بنانے میں کامیاب ہوسکے نہ حکمت عملی اور اہداف کے تعین میں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اتحادی ہی نہیں خود تحریک انصاف کے ارکان بھی مایوسی کا شکار ہیں۔ یہ حالات مزید جاری رہے تو ملک کا ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہونا یقینی نظر آرہا ہے۔ ملک کو اس وقت بہت سے اندرونی و بیرونی خطرات اور مشکل چیلنجوں کا سامنا ہے جن کا پوری قوم کو متحد ہوکر مقابلہ کرنا چاہیے۔ ایسے حالات میں حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کوئی نیک فال نہیں ہے۔ ایک طرف اپوزیشن جماعتیں قومی مفاد کا حوالہ دے کر ان مسائل و مشکلات کو حکومت کے خلاف استعمال کرنے، اس کی صفوں میں دراڑیں ڈالنے، اسے چلتا کرنے اور نئے انتخابات کی راہ ہموار کرنے کے لیے زور لگارہی ہیں تو دوسری طرف حکومت اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے اپوزیشن کو دبانے میں مصروف ہے۔ سیاست کے اس کھیل میں حکومت کی اتحادی جماعتیں اور ناراض ارکان بھی اپنے اپنے مطالبات منوانے اور مراعات سمیٹنے کی فکر میں ہیں۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن جو مرضی کرے، میرے سوا کوئی چوائس نہیں ہے۔ خدا پا ک معا ف فر ما ئے، قا رئین کرا م، ما ضی میں ملک کے ایک انتہائی مضبو ط وز یرِ اعظم ذ والفقا ر علی بھٹو نے بھی کچھ اسی قسم کا بیا ن دیا تھا۔ ان کے انجام سے آ پ اچھی طر ح وا قف ہیں۔ 

 بہر حا ل حا لا ت تو یہ ہیں کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سے لگتا ہے کہ ہر ماہ منی بجٹ آیا کرے گا۔ روپے کی قدر میں کمی ہے کہ تھمنے کا نا م نہیں لے رہی، برآمدات مسلسل کم ہورہی ہیں، محصولات پہلی بار ہدف سے کم جمع ہوئے۔ غربت اور بے روزگاری تیزی سے بڑھ رہی ہے، بجٹ میں کورونا کا مسئلہ بالکل نظر انداز کردیا گیا۔ تاریخی مہنگائی کے باوجود 

ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ اپوزیشن کودبانے کے لیے نیب کو استعمال کیا جارہا ہے اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے میڈیا کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔ اور یہ کہ شہبا ز شریف اور بلا ول بھٹو کے علا وہ دیگر سیاسی اکابرین بھی عمران خا ن سے استعفیٰ کا مطا لبہ کر رہے ہیں۔اور یہ یہی وہ حا لا ت ہیں جن کی بنا پر عوام میں ما یو سی بڑھتی جا رہی ہے۔ کا ش یہ حکو مت سمجھ سکے کہ محض وز یرِ ا عظم ہا ؤ س کی بھینسو ں کو بیچ دینے سے اور وزیراعظم ہا ؤ س کو یو ینورسٹی میں تبد یل کر دینے کے کھو کھلے نعر وں سے معیشت نہیں چلا کر تی۔ ریا ستِ مد ینہ کا نعرہ لگا نا آسا ن ہے۔ لیکن اس پہ عمل کرنا انتہائی ارفع کام ہے۔ اگر اس پہ خلو صِ نیت سے عمل کر نے کی تو فیق ہو تی تو اس کی کا میا بی میں خدا ا پا ک کی مد د یقینی تھی۔ مگر جب نیت اور عمل میں کھو ٹ ہو تو نا کامی میں تعجب کی کو ئی وجہ نہیں۔ مگر زیا دہ افسو س تو اس امر کا ہے کہ ہمارے حکمرا نو ں کو اس کا احسا س تک نہیں ہے۔

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا