ترک عدالت نے آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد بنانے کی منظوری دیدی

ترک عدالت نے آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد بنانے کی منظوری دیدی
اس فیصلے سے خدشہ ہے کہ ترکی کے مغرب اور عیسائی برادری کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

استنبول: ترکی کی ایک اعلیٰ عدالت نے آیا صوفیہ کی عجائب گھرکی حیثیت ختم کرنے کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے جس کے بعد اب اس تاریخی ورثے کے ایک مرتبہ پھر مسجد میں تبدیل ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔


واضح رہے کہ ترکی کی اعلیٰ عدالت کونسل آف اسٹیٹ میں کیس چل رہا تھا کہ کیا آیا صوفیہ کی موجودہ حیثیت یعنی عجائب گھر کو ختم کرکے اسے مسجد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

ترکی کی کونسل آف اسٹیٹ نے اس کیس کا فیصلہ 2 جولائی کو سنانا تھا لیکن اُس دن مختصر سماعت کے بعد فیصلے کو 15 دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا۔

تاہم آج جمعہ کو عدالت نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے آیا صوفیہ کی میوزیم کی حیثیت ختم کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ترکی کے مغرب اور عیسائی برادری کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ عمارت چھٹی صدی میں بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول کے دور میں بنائی گئی تھی اور تقریباً 1000 سال تک یہ دنیا کا سب سے بڑا گرجا گھر تھی۔

 1453 میں سلطنتِ عثمانیہ نے اسے ایک مسجد بنا دیا تھا لیکن 1934 میں مصطفٰی کمال اتاترک کے دور حکومت میں اسے ایک میوزیم میں تبدیل کردیا گیا اور اِس وقت  یہ عمارت اقوام متحدہ کے ورلڈ ہیریٹیج فہرست میں بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ ترک کے موجودہ صدر طیب اردوان نے الیکشن مہم کے دوران آیا صوفیہ کو ایک مرتبہ مسجد بنانے کا وعدہ کیا تھا۔