سیاستدان ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں…

 سیاستدان ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں…

ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک میں سیاسی سرکس ز روں پر ہے عمران خان اپنی بولی بول رہے ہیں جبکہ پی ڈی ایم اپنی بانسری بجا رہی ہے کسی کو خیال نہیں کہ ملک اورعوام کس کرب میں ہیں،ملک مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہا ہے جیسے کہ پہلے قومی اسمبلی میں ہوااور اب صوبائی اسمبلی میں ہو رہا ہے سپیکر پنجاب اسمبلی سسٹم کو ملیا میٹ کرنا چاہتے ہیں جس کا خمیازہ صوبے کی عوام بھگت رہی ہے ؟ سیاسی جماعتوں کی طرف سے فوج کو لاٹھی کے طور پر استعمال کرنے سے سول،فوجی عدم توازن پیدا ہوگا، سیاسی جماعتوں کو خود فیصلہ کرنا چاہئے کہ اسلام آباد کا راستہ راولپنڈی، واشنگٹن یا کسی دارالخلافہ کے ذریعے نہیں بلکہ آئین اور بیلیٹ بکس کے ذریعے ہی کامیاب ہو گا، اس پر استقامت دکھائی جائے تو کوئی ان پر بالادستی قائم نہیں کر سکتا دوسری طرف ملک میں ایک بھونچال آیا ہوا ہے عمران خان سسٹم کو تباہ کرنے کے درپے ہے،عمران خان کی یہ بات درست نہیں کہ ملک میں کبھی آج جتنے خراب حالات نہیں رہے، پی ٹی آئی ارکان اور صحافیوں کیخلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بہت سے لوگ آج بھی آواز اٹھاتے ہیں، عمران خان اتنے لاڈلے رہ چکے ہیں کہ ان کی پسند کیخلاف کچھ بھی ہوجائے تو وہ اسے حد پر لے جاتے،عمران خان کے ساتھ ریاست کی طرف سے جو حقیقی مسائل ہیں وہ اس طرح کی مثالیں دے کر اسے بھی انڈرمائن کرتے ہیں اس وقت صحافیوں کیخلاف ایک رات 

میں ایک ایک درجن ایف آئی آرز درج ہورہی ہیں، سینئر صحافیوں کو بھری سڑک پر گاڑیوں سے اتار کر مارا جارہا ہے، آج کچھ صحافی اس دور کو اچھا کہہ رہے ہیں ماضی میں وہ کہتے تھے ہمارے ساتھ ظلم ہورہا ہے، پنجاب میں پولیس نے جس طرح سویلین کپڑوں میں ملبوس لوگوں کے ساتھ عوام کی گاڑیاں توڑیں ایسا دنیا میں کہاں ہوتا ہے، عمران خان سے پوچھیں محسن بیگ کے ساتھ ان کے دور میں جو کچھ ہوا اس میں پولیس کے علاوہ کوئی ادارہ ملوث نہیں تھا، عمران خان فوج کو تہس نہس اور ملکی معیشت کو تباہ کرنا چاہتا ہے، عمران خان بظاہر جن لوگوں کیخلاف بول رہا ہے انہی کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے، آج جو میڈیا کے ان داتابنے ہوئے ہیں انہوں نے ماضی میں مارشل لاء کو دعوت دی ہے، عمران خان کی مدح سرائی کرنے والوں کو غیرقانونی طورپر مالی فوائد پہنچائے گئے، اداروں سے متعلق نواز شریف اور عمران خان کے موقف میں فرق ہے، نواز شریف کہتے تھے ادارے اپنی حدود میں رہیں، عمران خان اداروں کو سیاست میں مداخلت کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں، عمران خان اداروں کو سیاست سے دور رہنے کیلئے نہیں کہہ رہے ہیں، عمران خان اداروں سے کہہ رہے ہیں آپ الیکشن کروائیں، عمران خان نے کہا کہ اگر مجھے نقصان پہنچایا گیامجھے قتل کردیا گیاتو اس صورت میں میں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کرکے رکھی ہے جس میں مکمل بیان ہے کہ جو بھی رجیم چینج ہوایہ سازش جو وہ کہتے ہیں یہ کن لوگوں نے کی اور اس میں کون کون کردار ہیں ، عمران اس طرح کے بیانات دیکر نہ جانے کیا ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ سب کو پتہ ہے کہ وہ اس طرح کے بیانات کیوں اور کس لئے دے رہے ہیں؟ بدقسمتی سے ہمارے سیاستدان ایک دوسرے کو سیکورٹی رسک کہتے رہے ہیں، عمران خان جس خدشے کا اظہار کررہے ہیں انہیں اگر کوئی خطرات ہیں تو انہیں آگاہ کرنا چاہئے،عمران خان کیخلاف فارن فنڈنگ کیس 8 سال چلتا رہا جس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے،فیصلہ پتا نہیں کب تک محفوظ رہے گا؟عمران خان کی مرضی کا فیصلہ آئے تو عدالتیں اچھی مرضی کا فیصلہ نہ آئے تو دماغ پھٹنے لگتاہے، عمران خان اداروں کو سیاست سے دور رہنے کیلئے نہیں کہہ رہے ہیں، عمران خان اداروں سے کہہ رہے ہیں آپ الیکشن کروائیں ،ماضی میں غلط پالیسیوں کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں، جمہوریت لولی لنگڑی بھی ہو تو قابل قبول ہوتی ہے آمریت کو کوئی منہ نہیں لگاتا آج جس روش پر چل رہے ہیں وہ کسی تیسری قوت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ، اگر سیاسی جماعتیں اقتدار کے لیے تیسری قوت کا استعمال کریں گی تو آنے والے ہی ان کے جانے کے وقت کا تعین کریں گے، سیاسی قوتوں میں اگر ہم آہنگی اور اتحاد قائم ہوجائے تو یہ توازن قائم ہوسکتا ہے سیاستدانوں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہئے، انہیں ماضی میں پھنسے نہیں رہنا چاہئے،اگر ہم پگڑیاں اچھالنے میں لگے رہے تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے،ماضی میں ن لیگ اور پی پی نے میثاق جمہوریت کیا تھا جس پر عمل درآمد نہیں ہواتھا،سیاست دانوں کے لیے یہ وقت اہم ہے کہ وہ اپنے الیکٹورل مقاصد کے لیے فوج کی معاونت نہ لیں کیوں کہ اس سے مداخلت کے راستے کھل جاتے ہیں؟؟؟

مصنف کے بارے میں