غمِ سود و وزیاں

غمِ سود و وزیاں

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی والدہ کا انتقال اصلاً تو قومی ضمیر کے سانحۂ ارتحال پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے۔ دو دہائیوں سے مظلوم بیٹی کی راہ تکتی نحیف ونزار ماں، دید کی پیاسی آنکھیں موندکر اپنا مقدمہ مالک یوم الدین کے ہاں دائر کرنے بحکمِ ربی حاضر ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس اس ظلم کے بدلے، صبر کے بدلے انہیں عطا فرمائے۔ (آمین)

 اس جرم میں مشرف سے لے کر آج تک کی سبھی حکومتیں، عدالتیں، سیاست دان، جج، جرنیل، عوام درجہ بہ درجہ شریک ہیں۔ پوری امت پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ حجاج بن یوسف جیسے حکمران نے عورت کی پکار پر بے قرار ہوکر پے درپے تین مہمات ان کی رہائی کے لیے روانہ کیں۔ پہلے دو کی شہادت کے بعد محمد بن قاسم کامیاب ہوئے۔ اس خطے کو ایمان سے منور کرنے والا 17 سالہ نوجوان، ایک مظلوم مقید پکار پر ہی لپکا تھا۔ تب تک عورت محترم اور تقدس ووقار، ملی غیرت کا سوال ہوا کرتی تھی۔ حکمرانوں کو وفورِ غیرت سے اٹھا کھڑا کیا کرتی تھی۔ سودی قرضوں اور کشکولی معیشتوں نے ایمان اور غیرت کو قصۂ پارینہ بنا ڈالا۔ امریکا یورپ کے در پر جبیں سائی نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا۔ بلکہ شاید عصمت صدیقی کا رخصت ہونا بچی کھچی ضمیر کی خلش سے نجات بھی سمجھی جائے۔ بوڑھی ماں کا سامنا کرنا مشکل بھی تو تھا! اللہ ڈاکٹر عافیہ کو سکینت اور رحمت کے سائے میں رکھے اور ہمیں غیرت مند قیادت عطا کرے جو یہ دیرینہ قرض اتار سکے۔ (آمین)

بھارت اپنی تمام تر جنونی خباثت کے باوجود عالمی سطح پر پھل پھول رہا ہے۔ مذہبی آزادی کے امریکی سفیر نے وارننگ دی ہے کہ بھارت میں قتل عام کا شدید خطرہ ہے۔ اُدھر راجستھان میں گستاخ درزی کے قتل پر مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ اور واویلا تو خوب جاری ہے۔ باوجودیکہ اسی روز بھارت میں 80 قتل اور 77 آبروریزی کے واقعات ہوئے، اس پر آواز تک نہ آئی۔ نہ میڈیا نہ مذہبی قیادت چیخی چلائی کیونکہ اس پر جنونی سیاست بازی ممکن نہ تھی۔ مودی اس سب کے باوجود G-7 ہو یا چین میں ’برکس‘ کا اکٹھ، ہر جگہ اپنی پوری اہمیت جتاتا موجود ہے۔ واپسی پر دبئی ضمناً بھی رکا تو امیر دبئی نے پرتپاک استقبال کیا۔ یاد رہے کہ دبئی کی 35 فیصد آبادی (ہندو) بھارتی ہے۔ ان کی رگِ جاں پنجۂ ہنود میں ہے! مضبوط معیشت اور مؤثر سفارت کاری دنیا میں مقام بنانے کا لازمہ ہے۔ سو ہم صرف کراہ ہی سکتے ہیں اپنی بے وقعتی اور کس مپرسی پر۔

موجودہ عالمی سیاست کے عجوبے بھی عجب ہیں! روس کی قیمتی ترین متاع اور صیغۂ راز میں رکھے جانے والا سیکورٹی طلب معاملہ کیا ہے؟ پوٹن کے رفع حاجت کے نوادرات! تفصیل کچھ یوں ہے کہ یہ ایک قومی راز ہے کہ پوٹن کو کیا بیماری ہے، صحت کس حال میں ہے، دشمن کو خبر نہ ہوجائے۔ وہ ’قیمتی نمونہ‘ حاصل کرکے لیبارٹری ٹسٹ کرکے بیماریاں، ادویہ کا استعمال معلوم نہ کرسکیں۔ پوٹن کی ظاہری اچھل کود، 

زورآوری کی حقیقت نہ کہیں کھل جائے۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے! شبہات کا اظہار کیا گیا تھا کہ اسے کینسر ہے۔ انسان کے کمزور اور بے بس ہونے کا اس سے واضح پیمانہ اور کیا ہوگا؟ مگر کرسی کی ہوس، جوع الارض ،نتائج وعواقب انسان کو بھلائے رکھتی ہے یہاں تک کہ وہ قبر میں اتر جاتا ہے۔

پاکستان کو اس وقت ٹکاٹکا بچانے کی ضرورت ہے مگر حال یہ ہے کہ بھرے پیٹ والوں کو نوازنے کے سلسلے جوں کے توں جاری ہیں۔ وفاقی بیوروکریسی کو خصوصی الاؤنس کے اعزازیے سے نوازا جا رہا ہے، تاکہ ان کی دمکتی گاڑیوں کو پٹرول کی تنگی اور عیش وعشرت میں عسرت کا سامنا نہ کرنا پڑے؟ کیا بے رحمانہ معاشی فیصلے ہیں۔ عوام الناس کو گرمی کی شدت میں پیدل چلنے اور فاقوں پر مجبور کیے جانے کے بعد یہ اللے تللے؟ سود درسود قرضوں میں جکڑا عام آدمی اور بیوروکریسی ججوں جرنیلوں کی مراعات ، ان سفید ہاتھیوں کے فارم ہمارا سب سے بڑا المیہ ہیں۔ کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟ ترجیحات تعلیمی میدان میں بھی ملاحظہ فرما لیجیے۔ غریب مسکین تعلیمی بجٹ سے اب پنجاب اور سندھ حکومتوں نے 1500 میوزک ٹیچر بھرتی کرنے کا فیصلہ صادر فرمایا ہے۔ بھوکے پیٹ، ننگے پیر بچے، پانی بجلی سے محروم سرکاری تعلیمی ادارے، خطِ غربت تلے بیٹھے قوم کے غریب بچوں کو موسیقی پر نچاکر ان کے دل بہلائیںگے؟ حالانکہ سچ پوچھیے تو ان معاشی کس مپرسیوں پر صبر اور بدلے میں ملنے والی جنت پر راضی کرنے کے لیے قوم کو اب دینی اساتذہ جابجا تعینات کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی عوام بآسانی جنت کے لیے کوالیفائی کرسکتے ہیں، شرط صرف سچی توبہ اور رجوع الی اللہ کی ہے۔ (ہر حکومت ان سے دنیا کی سہولتیں چھیننے ہی آتی ہے!) آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔ سو اطفال ہوں یا ان کے والدین، حکومت انہیں اپنی ڈگڈگی یا میوزک ٹیچرز کے ہاتھوں نچانے کی بجائے سجدہ ریز کر دے۔ رعایا آپ کی مزید صابر شاکر ہو جائے گی اور اپنا مستقبل بھی سنوار لے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ بخاری شریف کی حدیث کے مطابق حکمرانوں کے لیے تنبیہہ سخت ہے۔ رعایا کی نگہبانی کے منصب والا اگر ان کے ساتھ دھوکے اور خیانت کا مرتکب ہوگا تو جنت اس پر حرام ہونے کی وعید ہے۔ یہی احادیث صحابہ کرامؓ کو مناصب سے ڈراتی اور رلاتی تھیں۔ آج قرآن وسنت سے لاعلمی مناصب کی طلب میں ایک دوسرے کے گریبان پھاڑنے والا بنا دیتی ہے۔

قومی معیشت کی بربادی قرضوں پر انحصار، ان کی دلدل میں گردن تک دھنس جانے کی بنا پر ہے۔ عالمی معاشی ادارے، بڑی طاقتیں (جن کی کٹھ پتلیاں ہم پر مسلط کی جاتی ہیں، سبھی فیصلے وہ کرتے ہیں) بخوبی جانتی ہیں کہ ہمارے حکمرانوں، سیاست دانوں اور مقتدرین نے لوٹ کا مال کہاں منتقل کیا ہے۔ باہر کے کن بینکوں میں ہے۔ کہاں جائیدادیں ہیں ان کی، کہاں سرمایہ کاریاں اور فارم ہاؤسز ہیں۔ پچھلے دنوں افغان سابق وزراء کی چرائی ہوئی قومی دولت سے بنی جائیدادوں کی رپورٹ بھی تو آخر امریکا ہی سے آئی تھی۔ سو پاکستان کے حوالے سے بھی یہ ہم عوام کی جان چھوڑیں۔

اپنے قرضے ان کی جائیدادیں، اموال بیرون ملک جہاں جہاں ہیں وہاں سے ضبط کرکے وصول کرلیں، ہمیں نہ نچوڑیں۔ یہ سب انہی کے چنیدہ ہیں جو ان کی آشیرباد سے باری باری اقتدار کا جھولا جھولتے ہیں۔ ہمیں اصلاً ضرورت سچی مخلص باصلاحیت ایمان دار قیادت کی ہے۔ نہ وہ مصنوعی ہیرو جو 300 کنال کے وسیع وعریض محل میں ٹھاٹ بگھار کر سادگی کے دعویدار ہوں۔ نہ وہ سب جو لندن، فرانس، دبئی، آسٹریلیا، امریکا میں جائیدادیں رکھتے ہوں اور پاکستان سے صرف کرسی پر بیٹھنے کا رشتہ ہو۔ یاد رہے کہ بنی گالہ کا غیرقانونی محل صرف 11 لاکھ 6 ہزار روپے میں قانونی قرار دے دیا گیا تھا، جبکہ پاکستان بھر میں چند مرلوں پر بھی رہنے والے غریب غرباء کو غیرقانونی تعمیر اور تجاوزات کے نام پر بلڈوزروں کا سامنا کرنا پڑا اور ہزاروں بے گھر کیے گئے۔ دوہرے معیارات پر دھواں دھار بیانات کس برتے پر؟ 40 ارب روپے ملک ریاض کو امانت ودیانت والے نے کس کھاتے میں دیے؟ کرپشن اسکینڈلوں کی بھرمار کے باوجود قوم کا مسیحا قرار دینے والے یقینا کسی جن جادو جنات کے سحر میں مسحور ہوئے بیٹھے ہیں (جس کا بہت شہرہ رہا)۔ ورنہ ادنیٰ شعور اور ایمانی حس آنکھوں دیکھے یوں مکھی نگلنے والا کیونکر بنا سکتی ہے۔ پاکستان اس بھنور سے نکل آئے اور اللہ ہمیں اسی شان کریمی سے ایک عدد ایمانی اجلی قیادت سے نواز دے جیسے اس نے آج تک معجزاتی طور پر اس ملک کو خود ہی رواں رکھا ہے!

ایک پرانا رستا زخم ازسرنو ادھیڑا گیا۔ لبنان میں فلسطینی صابرہ شتیلا کیمپوں میں اسرائیلی وزیر دفاع ایریل شیرون کی زیر ہدایت  ونگرانی جو قتل عام کیا گیا تھا، چھپائے جانے کے بعد اب اس کی حقیقت سے پردہ اٹھ گیا ہے۔ حالیہ حاصل ہونے والی دستاویزات سے اس امر کی تصدیق ہوگئی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم مناخم بیگن نے بھی شیرون کے اس منصوبے کی تائید کی۔ (البوابۃ نیوز۔ 20 جون 2022ء) 3 دن پر محیط اس قتل عام (16-18  ستمبر 1982ء) میں 3 ہزار فلسطینی فائرنگ اور چاقو حملوں سے شہید کیے گئے۔رات کے وقت کھانا کھاتے خاندانوں کی بستر میں سوئے ننھے بچوں سمیت خون کی ندیاں بہا دیں۔ بچوں کے سر دیواروں سے مار کر انہیں شہید کیا۔ سڑکوں پر گڈے گڑیوں کی سی لاشیں گولیوں کے سوراخ لیے اپنے والدین کے لاشوں ہمراہ پڑی رہیں۔ پھر اسرائیلی فوج کے بلڈوزروں نے اجتماعی قبریں کھود کر اپنا جرم دفن کردیا۔ ایریل شیرون سالہا سال کومے میں نمونۂ عبرت بنا ہسپتال میں سسک سسک کر بالآخر مرا۔ اسرائیلی قوم اس کی قبر پر صرف ایک منٹ کی خاموشی اور پھول ڈال کر چل دی۔ اندر کے لیے فائر بریگیڈ مہیا کرنا اس کے بس میں نہ تھا! مگر: کس کو ہے مسلماں کا غمِ سود و زیاں آج!

مصنف کے بارے میں