وہ ایک تصویر پر رو پڑے، ہمارا جواب کون دے گا، ڈاکٹر عاصم کا سوال

وہ ایک تصویر پر رو پڑے، ہمارا جواب کون دے گا، ڈاکٹر عاصم کا سوال

کراچی: احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا حسین نواز سے جے آئی ٹی نے 72 گھنٹے تفتیش کی لیکن ان سے جےآئی ٹی کی تفتیش تو 3 ماہ تک جاری رہی ۔ کہتے ہیں وہ ایک تصویر پر رو پڑے ہمارا جواب کون دے گا۔


ان کا مزید کہنا تھا ملک کا استحکام سب سے بڑھ کر ہے، عدلیہ ، بیوروکریسی اور پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ادھر نیب نے ڈاکٹر عاصم کی ضمانت خارج کرانے کیلئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم پر غیرقانونی الاٹمنٹ، منی لانڈرنگ، اختیارات کے غلط استعمال، ریاست کی زمین پر قبضے جیسے سنگین الزامات ہیں۔

ڈاکٹر عاصم نے بطور وزیر اختیارات کا غلط استعمال کر کے گیس بحران ظاہر کیا جس سے مارکیٹ میں یوریا کھاد کا شارٹ فال ہونے سے 450 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ نیب کی جانب ہفتہ کو دائر کی گئی درخواست میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے تین ارب، نام نہاد ٹرسٹ کے ذریعے ساڑھے 9 ارب روپے کی جائیدادیں بنائی گئیں۔

ڈاکٹر عاصم نے پاکستان میں اور بیرون ملک ناجائز اثاثے بنائے انکے کیخلاف ریفرنس میں لگے الزامات کے شواہد موجود ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ کے ریفری جج کا فیصلہ قانون اور حقائق کے برعکس ہے۔ ڈاکٹر عاصم نے ضمانت حاصل کرنے کیلئے جعلی میڈیکل رپورٹس بنوائیں۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کی ضمانت خارج کی جائے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں