بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے محافظوں کی پاکستانی خاتون صحافی سے بدتمیزی

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے محافظوں کی پاکستانی خاتون صحافی سے بدتمیزی

آستانہ: شنگھائی تعاون تنظیم کے  اجلاس میں ایشیائی ممالک کے سربراہوں نے شرکت کی وہی مختلف ممالک کی صحافی کمیونٹی کو بھی مدعو کیا گیاتھا۔پاکستان کی جانب سے بھی صحافیوں نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کے موقع پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان کانفرنس ہال میں دو سے تین منٹ تک ملاقات ہوئی, دونوں وزراء اعظم نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا اور ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور خوشگوار ماحول میں ایک دوسرے سے گفتگو کی۔


شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس  اختتام پذیر ہوچکا ہے۔اجلاس کے بعد جب بھارتی وزیراعظم ہال سے باہر نکلے اور اپنی گاڑی کی جانب گامزن تھے اسی دوران پاکستانی صحافی غریدہ فاروقی نریندر مودی کی سیکورٹی ٹیم  کو چکمہ دیکر اچانک مودی کے پاس جا پہنچتی ہیں لیکن مودی کا پرسنل سٹاف انہیں نا صرف پاس آنے سے روکتا ہے بلکہ  پاکستانی خاتون صحافی کو دبوچ کر دوسری جانب لے جاتا ہے اور ان کے موبائل کو بھی پکڑ لیا جاتا ہے جس سے خاتون صحافی غالباً ویڈیو بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔پاکستانی صحافی ابراہیم راجہ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مجھ سمیت 4,5 پاکستانی صحافیوں کو سیڑھیوں پر 5گھنٹے انتظار کرایا گیا جب بھارتی وزیر اعظم نیچے آئے اور ہم نے ان سے بات کرنا چاہی تو نا صرف ہمیں دھکے دیئے گئے بلکہ مودی کے سکیورٹی سٹاف نے ہماری خواتین کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر پیچھے دھکیل دیا اور ویڈیو بھی نہ بنانے دی۔

آپ بھی ویڈیو دیکھیں

اس سے قبل  بھی بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی آستانہ میں پاکستانی صحافیوں کے کشمیر کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پاکستانی صحافیوں نے بھارتی وزیر اعظم سے سوالات پوچھے تھے کہ پاکستان اور بھارت میں مسائل کا حل کیا ہے؟۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آپ کا کیا موقف ہے۔؟کیا آپ کے دورہ حکومت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بہتر ہو جائیں گے اور مسئلہ کشمیر بھی حل ہو جائے گا۔؟ سوالوں کی بوچھاڑ دیکھ کر مودی پاکستانی صحافیوں کو جواب دیئے بغیر تیزی سے لابی سے باہر نکل گئے تھے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں

نیوویب ڈیسک< News Source