'شیخ رشید مسجد میں قسم اٹھائیں پیسے نہیں دینے، معاف کر دوں گا'

'شیخ رشید مسجد میں قسم اٹھائیں پیسے نہیں دینے، معاف کر دوں گا'

اسلام آباد: ملک نور اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 2 سال پہلے تھانہ سیکرٹریٹ میں رقم کی عدم ادائیگی پر شیخ رشید کے خلاف شکایت درج کروائی تھی لیکن ان کے خلاف پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ ایک بار ایئر پورٹ پر ملے کہا میرے پیسے دے دیں تو گاڑی کا کہنے والے شیخ قیصر محمود نے ایئر پورٹ پر بات کی اور یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ خود پیسے دے دیں گے۔


ان کا مزید کہنا تھا شیخ رشید نے 1998 میں پیسے منتقل کرنے کا کہا تھا لیکن آج تک یہ رقم منتقل نہیں ہوئی۔ شیخ رشید سے بات کرنے کی بڑی کوشش کی اور 2 جنوری کو پاکستان آیا جبکہ میں 8 جون کو اسمبلی کا اجلاس دیکھنے گیا اور میں نے دیکھا اسمبلی میں شیخ رشید تقریر کر رہے تھے جب وہ باہر نکلے تو پہچان لیا۔

نور اعوان نے کہا جب میں نے ان سے بات کی تو پہلے کی طرح کہا یہ کر لیں گے وہ کر لیں گے۔ شیخ رشید کی جانب سے حملہ کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے ملک نور اعوان نے کہا نہ میں نے حملہ کیا نہ انہیں کوئی زخم آیا صرف شیخ رشید نے اسمبلی میں شور کیا اور وزیر داخلہ کے پاس بھی گئے۔ انہوں نے کہا عمران خان شیخ رشید کے گاڈ فادر ہیں اور مجھ پر 25 ڈی اور 506 کا مقدمہ لگایا گیا ہے۔ شیخ رشید مسجد میں قسم اٹھائیں کہ پیسے نہیں دینے میں معاف کر دوں گا اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے اپیل کرتا ہوں کہ میرے ساتھ انصاف کریں۔

یاد رہے 8 جون کو قومی اسمبلی کے احاطے میں شیخ رشید احمد اور مسلم لیگ ن جاپان کے صدر ملک نور اعوان کے درمیان جھگڑا ہوا اور دونوں ایک دوسرے کے دست و گریبان ہو گئے تھے۔

شیخ رشید کے مطالبہ پر پریزائڈنگ افسر نے جھگڑا کرنے والے شخص کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے تھانہ سیکرٹریٹ پولیس کو درخواست دی تھی۔ جس میں مؤقف اختیار کیا ملک نور نامی شخص نے پارلیمنٹ میں حملہ کی کوشش کی اور جان بچا کر اسمبلی میں داخل ہوا۔ میڈیا سے گفتگو میں شیخ رشید نے پیسے لینے کا الزام بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا اگر مجھے کچھ ہوا تو ذمہ دار وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب ہوں گے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں