’سا رے گا ما پا‘ میں بھجن گانے پر مسلمان لڑکی مشکلات کا شکار

’سا رے گا ما پا‘ میں بھجن گانے پر مسلمان لڑکی مشکلات کا شکار

ممبئی:بھارتی رئیلیٹی شو ’سا رے گا ما پا ‘ایک ایسا پروگرام ہے جس میں موسیقی کے شوقین لوگ اپنی آوازوں کا جادو جگانے جاتے ہیں اور ایسا ہی کیا ہے سوہانا سید نے ۔سوہانا ایک بھارتی مسلمان لڑکی ہے جس نے اس پروگرا م میں اپنی آواز کا جادو جگانا چاہا لیکن توپوں کا رخ سوہانا کے حجاب کی طرف مڑ گیا۔


دراصل سوہانا نے حجاب پہن کر ہندی بھجن گایا جس کے بعد سے وہ مسلسل تنقید کا نشانہ بنی ہوئیں ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر موجود ایک گروپ میں سوہانا کو خوب نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ اگر وہ حجاب کی پاسداری نہیں کر سکتی تھیں تو حجاب نہ پہنتٰیں ۔تنقید اس بات پر کی جارہی ہے کہ سوہانا نے حجاب پہن کر ہندی بھجن گایا جو مسلمانوں کی روایات کے خلاف ہے دوسری جانب ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والوں کا بھی یہی حال ہے کہ حجاب مسلمانوں کا ہے اسکو لگا کر ہمارا مذہبی ترانہ کیوں گایا۔

لیکن کچھ لوگ مثبت بھی ہیں جن میں سے ایک کا کہنا ہے کہ ’اس میں کوئی انوکھی بات نہیں کہ سوہانا نے بھجن گایا جب ہندو قوالی گاتے ہیں تو کسی کوئی تشویش نہیں ہوتی‘ کسی اور نے کہا کہ ’یہ ہر کسی کا ذاتی معاملہ ہے اور کوئی جو چاہے اپنی مرضی سے کر سکتا ہے ‘۔مینگلور مسلمز نامی اس فیس بک گروپ کے ممبرز کی تعداد 46ہزار سے زائد تھی جو سوہانا کے معاملے کے بعد 2ہزار سے زائد کے اضافے کے ساتھ 50ہزار کو جا پہنچی ہے۔