پاک افغان سرحد پر تجارتی سرگرمیاں اور آمدو رفت چھٹے روز بھی بند

پاک افغان سرحد پر تجارتی سرگرمیاں اور آمدو رفت چھٹے روز بھی بند

چمن: چمن پاک افغان سرحد پر تجارتی سرگرمیاں اور آمدو رفت چھٹے روز بھی بند۔ تاہم انسانی ہمدردی کی بنیادپر20بیمارافغان شہریوں کوافغانستان جانے کی اجازت مل گئی۔ پاک افغان سرحد کی حدود کے تعین کے لیئے کلی لقمان اورکلی جہانگیرمیں سرحدی حدودکے تعین کاسروے مکمل جس کی رپورٹ اعلیٰ حکام کوبھیج دی گئی۔ پاک افغان سرحد پر چھٹے روز کشیدگی برقرار رہی ۔آج بھی باب دوستی پرتجارتی سرگرمیوں اور آمدو رفت معطل رہنے کا امکان ہے ۔ٹرانسپورٹ اتحاد کے سربرا ہ کا کہناہے کہ کراچی سے روانہ سینکڑوں کنٹینرز راستے میں پھنس گئے  ہیں ۔اسلیئے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینرز کراچی سے لوڈ نہیں ہوں گے۔


واضح رہے گزشتہ روز افغان سفیر عمر زاخیل وال نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کی تھی۔ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ افغان حکام نے بات چیت کے بجائے بےگناہ اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جب تک افغان حکومت پاکستان کے تحفظات دور نہیں کرتی باب دوستی بند رہے گا۔

سرتاج عزیز نے پاکستان کے تمام تحفظات عمر زاخیل وال کے توسط سے افغان حکام تک پہنچائے جبکہ امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور افغانستان مذہب، ہمسائیگی ، ثقافتی رشتوں میں بندھے ہیں اس لئے دونوں کے مابین کشیدگی بہت جلد دور ہو جائے گی۔

دوسری جانب پاکستان میں تعینات افغان سفیر عمرزاخیل وال نے اس ملاقات کو خوش آئندہ قرار دیا اور کہا کہ ملاقات میں پاک افغان تعلقات پر سیر حاصل بحث ہوئی جو باہمی تعلقات اور روابط کو فروغ دینے کا سبب بنے گی۔یاد رہے  بارڈر پر کشیدگی کے باعث چمن میں باب دوستی کل پانچویں روز بھی بند ہونے سے تجارتی سرگرمیاں اور آمد و رفت کا سلسلہ معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ نیٹو سپلائی اور پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بھی شروع نہ ہو سکی۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بلوچستان کے ہی شہر چمن کے سرحدی علاقوں کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں افغان فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں 2 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 12 افراد جاں بحق جبکہ 40 زخمی ہو گئے تھے۔