چہرے پر ڈمپل بننے کی اصل وجہ وراثتی نہیں ہے

چہرے پر ڈمپل بننے کی اصل وجہ وراثتی نہیں ہے

لاہور:ہر کسی کی نظر میں خوبصورتی کا معیار مختلف ہوتا ہے لیکن کچھ ایسی حقیقتیں بھی ہوتی ہیں جن پر کم و بیشتر سب کو متفق ہونا پڑتا ہے اور شاید کوئی ہزاروں لاکھوں میں ہو جو اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریز کرے ۔ایسا ہی ہے کچھ چہرے پر موجود ڈمپلز کے ساتھ جن کے بارے مین کہا جاتا ہے کہ جن لوگوں کے چہرے پر ڈمپلز بنتے ہیں وہ بہت بھلے معلوم ہوتے ہیں اور ڈمپلز کا شمار خوبصورتی میں کیا جاتا ہے ۔


چہرے پر دو طرح کے ڈمپلز ہوتے ہیں کچھ لوگوں کے ٹھوڑی میں ڈمپل  ہوتا ہے جو مستقل ہوتا ہے  اور کچھ لوگوں کے مسکراتے وقت دونوں گالوں یا ایک جانب ڈمپل بنتا ہے ۔لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے ؟

ماہرین کے مطابق ٹھوڑی میں بنا ہوا ڈمپل ماں کے پیٹ میں ہی بن جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہ کہ ٹھوڑی کی دونوں جانب کی ہڈیاں آپس میں پوری طرح جڑ نہیں پاتیں جس کی وجہ سے ایک خلا سا رہ جاتا ہے جو ڈمپل کی صورت میں نظر آتا ہے ۔لیکن گالوں کے ڈمپل کے بارے میں پہلے یہ تصور کیا جاتا تھا کہ یہ موروثی ہوتے ہیں یعنی اگر ماں باپ یا دونوں میں ے کسی ایک کے ڈمپلز بنتے ہیں تو پھر بچوں کے بھی ڈمپلز بنتے ہیں لیکن یہ نظریہ غلط ہے ۔ماہرین حیاتیات کے مطابق ڈمپل بننے کی اصل وجہ ہمارے چہرے میں موجود  زیگومیٹیکس میجر( zygomaticus major) نامی عصب درمیان سے ٹوٹا ہوتا ہے ۔یہ چونکہ کافی لمبائی پر مشتمل مسل ہے اس لیے بعض لوگوں میں یہ پوریلمبائی کی بجائے دو حصوں میں بنتا ہے یہی وجہ ہوتی ہے کہ پھر اس جگہ خلا رہ جاتا ہے اور جب کوئی شخص ہنستا ہے تو اس جگہ پر زیگومیٹیکس نہ ہونے کی وجہ سے خلا بنتا ہے جسے ہم ڈمپل کا نام دیتے ہیں ۔