قصور: جنسی درندے بے لگام، 5 معصوم بچیاں زیادتی کے بعد قتل

قصور: جنسی درندے بے لگام، 5 معصوم بچیاں زیادتی کے بعد قتل

قصور: قصور میں ہوس کے پجاریوں نے کئی گودیں اجاڑ دیں اور 3 ماہ میں 5 کمسن بچیوں کو جنسی زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ قتل ہونے والی بچیوں کی عمریں 5 سے 11 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔


ذرائع کے مطابق غریب گھرانوں کی معصوم کلیوں کو تار تار کر کے ملزمان نے ایک ہی انداز سے موت کے گھاٹ اتارا اور پھر زیر تعمیر مکانوں اور حویلیوں میں پھینک دیا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ کئی بچیاں قتل ہو گئیں اب تک کوئی حکومتی نمائندہ علاقے میں نہیں پہنچا۔

معروف سماجی کارکن فرزانہ باری کا کہنا ہے کہ ملزمان پکڑے نہیں جاتے اگر پکڑے جائیں تو انہیں کبھی سزا نہیں دی جاتی۔

واضح رہے کہ 2015 میں ہی قصور میں بچوں کے زیادتی کا بڑا اسکیںڈل سامنے آیا تھا جس کے بعد وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا اعلان کیا تھا۔

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج چوہدری محمد الیاس نے مذکورہ کیس کی سماعت کی اور ملزم حسیم عامر اور فیضان مجید کو مجرم قرار دیا۔ دونوں ملزمان کو عمر قید کی سزا کے ساتھ تین لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں