اگر کوئی سمجھتا ہے ، کرپشن سے متعلق پوچھنا جرم ہے تو یہ جرم ہوتا رہے گا، چیئرمین نیب

اگر کوئی سمجھتا ہے ، کرپشن سے متعلق پوچھنا جرم ہے تو یہ جرم ہوتا رہے گا، چیئرمین نیب
قومی ادارے کا نوٹس ڈنر کا دعوت نامہ نہیں ہوتا..... فوٹؤ: فائل

پشاور : چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ قومی ادارے کا نوٹس ڈنر کا دعوت نامہ نہیں ہوتا ، نوٹس آپ کی عزت کو ملحوظ خاطر رکھ کر دیا جاتا ہے ۔ یہ پوچھنا کون سا گناہ ہے کہ کرپشن کیسے ہوئی کہاں ہوئی؟ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ پوچھنا جرم ہے تو یہ جرم ہوتا رہے گا۔


پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس (ر) جاویداقبال کا کہنا تھا کہ نیب کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، نیب کا ہر قدم ملک اور ریاست کے مفاد میں ہے۔اگر کسی سے یہ سوال کر لیا جائے کہ یہ رقم کہاں استعمال ہوئی، آپ ذمہ دار تھے تو کوئی یہ مت سمجھے کہ اس کے ساتھ ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب جو کچھ کر رہا ہے ملک اور عوام کے لیے کر رہا ہے، ہمیں کسی قسم کی تشہیر اور شاباش کی ضرورت نہیں، کوئی تنقید کرتا ہے یا تذلیل کرتا ہے تو اس کی مرضی لیکن نیب آئین اور قانون کے مطابق اپنے اختیارات استعمال کر رہا تھا اور کرتا رہے گا۔آپ میں سے کوئی بھی تشریف لایا ہے تو اس کی خاطر تواضع کی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ بھی آئے ان سے ادب سے پوچھا کہ آپ نے جو رقم استعمال کی اس کے امین تھے؟ ادب سے پوچھتے ہیں کہ جو رقم خرچ کی وہ کہاں کی۔یہ صورتحال ہمارے ملک کے مفاد میں ہے، کرپشن کو مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ نا تو ہمارا الیکشن سے کوئی تعلق ہے اور نا ہی کسی قسم کے سیاسی عزائم ہیں، الیکشن میں الف آئے یا ب آئے، عوام جانے اور ووٹ جانیں، لیکن کرپشن کے خاتمے کی جو مہم شروع کر رکھی ہے اسے ختم نہیں کریں گے۔ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ جن لوگوں کے ذہن میں یہ بات ہے کہ ہمیں کچھ نہیں کہا جائے گا وہ اپنی اس غلط فہمی کو دور کر لیں، ان سے پوچھا بھی جا سکتا ہے اور قانون کے مطابق ان پر گرفت بھی ہو سکتی ہے اور جو قوم کی لوٹی ہوئی دولت ہے اسے واپس لا کر جن لوگوں کا حق ہے ان تک پہنچائی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ نیب کو تھانے داری کا کوئی شوق نہیں ہے، آج ملک اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ پاکستان نے 84 ارب ڈالر قرض ادا کرنا ہے لیکن اتنی بڑی رقم کہیں خرچ ہوتی نظر نہیں آتی۔