تاریخی مہنگائی

تاریخی مہنگائی

روز افزوں مہنگائی آج ہمارے ملک کے سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہیں۔ اس سے لوگوں کی زندگی دو بھر ہوتی جا رہی ہے۔ لوگوں کے گھریلو بجٹ کا سارا تخمینہ فیل ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا سکھ چین غارت کیا ہوا ہے، ہر اگلے روز اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ یہ بالکل حقیقت ہے کہ ایک چیز جس نرخ پر گزشتہ روز خریدی ہوئی ہوتی ہے آج اس نرخ پر میسر نہیں ہوتی۔ آٹا، دال، چاول، گھی، تیل، گوشت، سبزی غرض روز مرہ استعمال کی کوئی چیز بھی اب عوام کی دسترس میں نہیں ہے۔ آج جتنے پیسے گھر آتے ہیں اس حساب سے سوچنا پڑتا ہے پہلے ہزار پانچ سو روپے کی بڑی وقعت ہوتی تھی اب وہی ہزار پانچ سو کا نوٹ ایسے خرچ ہو جاتا ہے کہ پتہ بھی نہیں چلتا۔ غریب طبقہ تو اس سے پریشان ہے ہی متوسط طبقہ بھی بری طرح متاثر ہے اور حد تو یہ ہے کہ اب کھاتے پیتے گھرانوں میں بھی مہنگائی کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ بازار میں صارف کا استحصال کئی طرح سے ہوتا ہے دوکاندار ناجائز طریقوں سے اشیاء کے دام لگاتے ہیں۔ اس سے بازار میں افراتفری کا ماحول بنا رہتا ہے۔ اجناس اور خدمات کی قیمت بڑھتے ہی کرنسی نوٹ کی قوتِ خرید کم ہوتی جاتی ہے۔ جو بالآخر معاشی نمو میں سستی کا باعث بنتی ہے۔

پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور جب ان وسائل کے استعمال کی بات آتی ہے تو ہمیں ترقی کے نئے اقتصادی ماڈل کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ایک پالیسی کی حیثیت سے خانگی شعبہ کو ان قدرتی وسائل کا استعمال عوام کی بہتری اور ترقی و خوشحالی کے لئے ایک منظم انداز میں کیا جانا چاہئے۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ ہم سیاست دانوں اور کارباری افراد کے گٹھ جوڑ سے سرمایہ کاری کی ایک منفرد قسم کی جانب بڑھ رہے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس عمل میں غیر معمولی اور اہمیت کے حامل عوامی اثاثہ جات اور وسائل وہ لوگ استعمال کر رہے ہیں جو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے عناصر کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ایک طرح سے پاکستان ایک ایسی 

معیشت بنتا جا رہا ہے جس پر پوری طرح متمول طبقے کا کنٹرول ہے جہاں قدرتی وسائل پر جو کہ عوامی اثاثہ جات ہیں چند لوگوں کی اجارہ داری ہے۔ اس تمام عمل میں اگر کسی کا نقصان ہوتا ہے تو وہ عام آدمی ہے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ امیر اور غریب کے درمیان ناقابلِ یقین حد تک تفاوت بڑھ گئی ہے۔ ہمارے ملک میں معاشی وسائل چند ہاتھوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ دنیا کی مارکیٹ کے دو نظام ہیں کنٹرولڈ پرائس اور فری پرائس سسٹم۔ کنٹرولڈ پرائس سسٹم میں اشیاء کی قیمتیں حکومت کے زیرِ کنٹرول ہوتی ہیں، وہ ضرورت کے مطابق اس کی قیمتوں میں کمی و زیادتی کرتی ہے، جس میں عوام کی قوتِ خرید کو مرکزیت حاصل ہوتی ہے۔ فری پرائس سسٹم میں اشیاء کی قیمتیں تاجروں کے ہاتھ میں ہوتی ہیں جو بحرانی حالات کو بھی مواقع کی صورت میں تبدیل کرنے کا ہنر جانتے ہیں بلکہ ان کو ایسے حالات کا انتظار رہتا ہے۔ اس وقت ملک میں بالکل ایسی ہی صورتحال ہے مصنوعی حالات پیدا کر کے کاروباری افراد غیر معمولی منافع کما رہے ہیں۔ حکومت ایسے وقت میں ان کے خلاف کارروائی کر کے عوام کو ان کے چنگل سے نجات دلاتی ہے مگر موجودہ حکومت ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ضروری اشیاء ہی سب سے زیادہ مہنگی ہیں جس سے عوام کی زندگی دو بھر ہو چکی ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو پوری کوشش و محنت کے باوجود بھی عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا اور ذخیرہ اندوز اپنی تجوریاں بھریں گے تو جرائم میں اضافہ ہو گا۔ 

بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث پاکستان کی آبادی کا ایک بڑ احصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی کے دن سسک سسک کا گزار رہا ہے۔ پاکستان کو معاشی مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لئے حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں کا رخ درست سمت موڑنا ہو گا۔ حکمران طبقے، با اثر سیاست دان، جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کو بھی کو اسی طرح ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا جس طرح عام آدمی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب سے پی ڈی ایم کی حکومت آئی ہے اس نے پی ٹی آئی کی حکومت کو کوسنے دینے کے سوا ابھی تک کچھ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اپنی معاشی پالیسی کے خدو خال واضح کئے ہیں۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ واضح معاشی اور اقتصادی پالیسی کے بغیر ترقی کا عمل درست سمت میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔ حکومت اگر ملک میں معاشی انقلاب لانا چاہتی ہے تو اسے اپنے اقتصادی اور معاشی اہداف کا واضح اعلان کرنا ہو گا۔

حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرائط کے حوالے سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھانے کے سلسلے میں بھی عوام کی ذہن سازی کی جا رہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ اتنا اضافہ ناگزیر ہے تا کہ جب اضافہ کیا جائے تو لوگ شور نہ مچائیں۔ لیکن لوگ شور مچائیں یا نہ مچائیں اس حقیقت سے کسی طور انکار نہیں کیا جا سکتا ہے اور حکومت یقینا اس سے پوری طرح آگاہ ہو گی کہ توانائی کے نرخ بڑھانا مہنگائی کی نئی لہر پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے جب کہ مہنگائی کی ہر نئی لہر عوام کے مالی معاملات کو شدید متاثر کرتی ہے۔ مہنگائی اس قدر بے لگام ہو چکی ہے کہ سرکاری ادارہ یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن بھی بار بار اشیائے صرف، خصوصی طور پر اشیائے خور و نوش کے نرخ بڑھانے پر مجبور ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کھلی منڈیوں میں صارفین کے ساتھ کیا صورت ہو گی۔ سفید پوش متوسط طبقہ جو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم سے کم تنخواہ کے زمرے میں آتا ہے کس طرح اپنا اور گھر والوں کا پیٹ بھر کر سوتا ہو گا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے اور معیار یقینی بنانے کے عزم کا فقدان مہنگائی میں مسلسل اضافے کا سبب ہے۔ جب تک اشیائے خور و نوش کے معیار اور قیمتوں کے تقرر کا کوئی جامع بندو بست نہیں کیا جاتا یہ خود ساختہ مہنگائی عوام کا خون پیتی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اب پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ انہوں نے مہنگائی کو ایک حد تک کنٹرول کر رکھا تھا لیکن موجودہ حکومت سے ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ جب کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس گزشتہ ساڑھے تین سال میں حکومت پر تنقید کے لئے مہنگائی کے علاوہ اور کچھ تھا ہی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر اپوزیشن حکومت پر تنقید کرتے ہوئے حالات و واقعات کو مدِنظر نہیں رکھتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں