ساری سیاست اشاروں پر چل رہی ہے،سینیٹر سراج الحق

ساری سیاست اشاروں پر چل رہی ہے،سینیٹر سراج الحق

کراچی:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر نوازشریف نے جو ریمارکس دیے ہیں ، وہ ان کے شایان شان نہیں تھے.


نوازشریف نے عدالتی فیصلے کو بے توقیر کرنے اور عدلیہ کی توہین کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ہیں ، یہ روایت پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک ہے ، ملکی تاریخ گواہ ہے کہ آئین اور جمہوریت کو ہمیشہ مفاد پر ست سیاستدانوں نے نقصان پہنچایا ہے ، عدلیہ کے ساتھ ٹکر لینا خود موجودہ حکومت کے مفاد میں نہیں ،  اس کا جو انجام ہوگا ، اس کی ذمہ داری حکومت پر ہو گی ، حکمران بھارت کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں اور اپنی عدلیہ کے بارے میں بغض اور حسد کے الفاظ حکمرانوں کو زیب نہیں دیتے ، نوازشریف اپنے رویے سے عوام کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ ۔

تفصیلات کے مطابق میڈیا  نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ساری سیاست اشاروں پر چل رہی ہے ، قومی سیاست سموگ کا شکار ہے جس کے پاس فوگ لائٹس ہوں گی وہی چند قدم اٹھا سکے گا ۔ ایم کیو ایم کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہاکہ لوگ جانتے ہیں کہ ایم کیوایم کا پیر کون ہے اور مرید کون ؟   پارٹیوں کو نام بدلنے کی بجائے کام بدلنے پر توجہ دینی چاہیے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ آج کے حکمرانوں نے علامہ اقبال کے افکار کی بجائے مغرب کو اپنا پیشوا بنا رکھاہے ،حکمران جھوٹ اور فریب کی سیاست کو کامیابی کی علامت سمجھتے ہیں، ملک میں جاری معاشی معاشرتی اور تعلیمی نظام اقبال کے نظریات سے متصادم ہے.

حکمرانوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے پاکستان کو دو ٹکڑے کر دیا اور آج انہی مفادات کی وجہ سے پاکستان میں سیاست اور جمہوریت ترقی نہیں کر رہی ۔ سراج الحق نے انتخابی اصلاحات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہاکہ اس وقت قومی اسمبلی میں مسلم لیگ کی اکثریت ہے حکومت نے اسمبلی میں بل پیش کیا تو اس دن اسمبلی میں دس پندرہ سے زیادہ حکومتی ممبران نہیں تھے ۔ حلقہ بندیوں کے حوالے سے خود حکومت سنجیدہ نہیں اور نہ حکومت نے اس پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی ، حلقہ بندیوں پر اگر سیاسی جماعتوں کے تحفظات ہیں تو انہیں ختم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے.

جس سے ثابت ہوتاہے کہ حکومت خود وقت پر انتخابات نہیں چاہتی اسی لیے وہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرر ہی، الیکشن کا وقت پر ہونا قومی مطالبہ ہے