احتساب عدالت نے شہباز شریف کا مزید 14روز کا جسمانی ریمانڈ دیدیا

احتساب عدالت نے شہباز شریف کا مزید 14روز کا جسمانی ریمانڈ دیدیا
سکرین شاٹ

اسلام آباد:پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق احتساب عدالت نے نیب کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مزید 14روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔


تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں آج شہباز شریف کی چوتھی پیشی ہوئی جس کے لیے انہیں اسلام آباد سے لاہور لایا گیا۔ اس موقع پر احتساب عدالت کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔نیب لاہور کی جانب سے شہباز شریف کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی  گئی تھی۔

تاہم شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے مختلف عدالتی فیصلوں کی مثال دیتے ہوئے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی۔شہباز شریف کے وکیل نے عدالت کے روبرو کہا کہ ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد شہباز شریف کے کیس میں پارٹی بن گئے ہیں اور مختلف ٹاک شوز میں انٹرویوز دے رہے ہیں۔

امجد پرویز نے دلائل کے دوران کہا کہ شہباز شریف کو نیب نے پہلی بار جون 2018 میں بلایا، ان کو جب بھی بلایا گیا وہ تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوتے رہے اور انہوں نے تحقیقات میں ہر طرح کا تعاون کیا ہے۔

شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ آج تک آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں نیب کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دے سکی، لہذا کوئی وجہ نہیں جس پر مزید ریمانڈ دیا جائے۔احتساب عدالت کے جج نجم الحسن، شہباز شریف کے خلاف کیس کی سماعت  کی۔سماعت کے آغاز پر باہر موجود وکلاء نے کمرہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا، جس سے سماعت میں خلل پڑا۔شہباز شریف نے کہا کہ 'جج صاحب یہ کارکن نہیں، وکلاء دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں'۔

اس موقع پر جج نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ 'یہ وکلاءآپ کے لیے آئے ہیں'؟شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ 'ہم نے ان وکلا کو نہیں بلایا، ہم تو چاہتے ہیں کہ اچھے حالات میں سماعت ہو'۔جس پر احتساب عدالت کے جج نے ایس پی کو طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ میں ان حالات میں سماعت نہیں کرسکتا۔