پی آئی اے کے طیارے کی فروخت کا معاملہ، ایف آئی اے کو تحقیقات کرنیکی ہدایت

پی آئی اے کے طیارے کی فروخت کا معاملہ، ایف آئی اے کو تحقیقات کرنیکی ہدایت

اسلام آباد: قومی ایئر لائن پی آئی اے کے گمشدہ طیارے کے فلم میں استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ قومی اسمبلی میں جے یو آئی (ف) کے ارکان نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا جس میں انکشاف کیا گیا کہ پی آئی اے کے گمشدہ طیارے کو مالٹا میں فلسطینیوں کے خلاف فلم میں استعمال کیا گیا۔ جے یو آئی (ف) کی رکن عالیہ کامران نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف فلمبندی میں ہمارا طیارہ استعمال ہوا۔ توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور آفتاب شیخ نے کہا کہ ہم ایوان میں جھوٹ نہیں بولتے کہ بعد میں شرمندگی ہو کیونکہ طیارہ مالٹا میں فلمبندی کے لیے کرائے پر لے جایا گیا۔

پی آئی اے کے طیارے کا 2 کروڑ 40 لاکھ روپے کرایہ بھی وصول کیا گیا۔ آفتاب شیخ نے ایوان کو بتایا کہ اب طیارہ جرمنی میں کھڑا ہے اور اطلاعات ہیں کہ جرمنی کو فروخت کر دیا گیا۔ یہ غلط اقدام کیا گیا جو ذمے دار ہے اس کے تعین کے لیے تحقیقات ہونی چاہئیں۔ طیارے سے متعلق ایف آئی اے اور سینیٹ کی کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے۔

شیخ آفتاب نے ڈپٹی اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر خصوصی کمیٹی بنا دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں اور رولنگ دے دیں کہ ایف آئی اے ایک ماہ میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کرے۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے تحقیقاتی رپورٹ ایک ماہ میں پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سی ای او یا جو بھی ملوث ہے اسے سزا دی جائے۔

 

ادھر خورشید شاہ کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا اور سیکرٹری ایوی ایشن عرفان الہی پر برس پڑے۔ کہتے ہیں کیا پی آئی اے کا جہاز خیراتی تھا جو خیرات میں دیا گیا کیا سول ایوی ایشن میں کوئی سمجھ دار شخص نہیں تھا۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ملک کی بڑی ایئر لائن تباہ ہو گئی ہے اور چلتا ہوا جہاز آپ نے بیچا ہے۔ پی اے سی نے معاملہ نیب کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں