ایک سال کے دوران 34 لاکھ کا اضافہ، دنیا میں بیروزگاروں کی تعداد 20 کروڑ ہو گئی

ایک سال کے دوران 34 لاکھ کا اضافہ، دنیا میں بیروزگاروں کی تعداد 20 کروڑ ہو گئی

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں 20 کروڑ سے زیادہ افراد بیروزگار  ہیں جن میں ایک سال کے دوران 34 لاکھ کا اضافہ ہوا۔


عالمی ادارہ برائے محنت ’’ آئی ایل او ‘‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ ’’ ورلڈ ایمپلائمنٹ اینڈ سوشل آؤٹ لک 2017ء سسٹین ایبل انٹرپرائزز اینڈ جابز ‘‘ میں متنبہ کیا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے جمود کا شکار ہیں جس کا ترقی پذیر معیشتوں پر برا اثر پڑ رہا ہے جہاں کام کرنے والے ہر دو میں سے ایک فرد ملازم ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ 2016 ء کی بلک آف گلوبل ایمپلائمنٹ کے مطابق نجی کاروباری اداروں میں دو ارب اسی کروڑ سے زیادہ افراد ملازم ہیں جو کل ملازمین کا 87 فیصد ہیں ان میں اوسط درجے کے کاروباری اداروں کے ملازمین بھی شامل ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ کچھ عرب ملکوں میں نجی شعبے کے کل ملازمین کا 70 فیصد حصہ اوسط درجے کے کاروباری اداروں میں ہے جبکہ صحرائے صحارا کے ملکوں میں کل ملازمین کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ نجی شعبے میں ہے۔

ادارے کے 130 سے زیادہ ملکوں سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق 2008 ء کے عالمی مالیاتی بحران سے قبل بڑی کمپنیوں اور کاروباری اداروں کی نسبت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں ملازمتوں کے مواقع میں تیزی سے اضافہ ہورہا تھا جبکہ 2009 ء کے بعد ان اداروں میں ملازمتوں کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں جو حکومتوں کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ ماضی کی صورتحال واپس لانے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔

عالمی ادارہ برائے محنت کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے پالیسی جنرل ڈیبورا گرین فیلڈ کے مطابق چھوئے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ ان اداروں کو بہتر کاروباری ماحول فراہم کیا جاسکے ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کل وقتی خاتون ملازمین بڑی فرموں اور کمپنیوں کی نسبت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں زیادہ کام کرتی ہیں۔کل وقتی خاتون ملازمین کا 30 فیصد حصہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں میں ہے جبکہ بڑی فرموں اور بڑے کاروباری اداروں میں صرف 27 فیصد کل وقتی خاتون ملازمین کام کرتی ہیں۔

عالمی ادارہ برائے محنت کے مطابق چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترویج و ترقی کا مثبت اثر سب سے زیادہ خواتین پر پڑے گا کیونکہ یہی ادارے انھیں روزگار کے زیادہ مواقع فراہم کرتے ہیں۔

آئی ایل او کا کہنا ہے کہ ملازمین کیلئے بہتر ماحول کی فراہمی پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ملازمین کی تربیت سازی سے ان کی اجرتوں میں 14 فیصد جبکہ ادارے کی پیداوار میں 20 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔اس کے برعکس مختصر مدتی کنٹریکٹ کی بنیاد پر ملازمتوں کی فراہمی سے ملازمین کی تنخواہیں اور ادارے کی پیداوار کم ہی رہتی ہیں۔

نیوویب ڈیسک< News Source