یمن ،حوثی باغیوں اور فوج کے درمیان جنگ میں 200بچے جان سے گئے

یمن ،حوثی باغیوں اور فوج کے درمیان جنگ میں 200بچے جان سے گئے

ثی باغیوں اور علی صالح ملیشیا کی جانب سے شمالی مغربی گورنری ’حجة‘ میں جنگ میں جھونکے گئے 15 سال سے کم عمر کے 200 بچے محاذ جنگ پر مارے جا چکے ہیں۔


یمن میں انسانی حقوق کے اداروں نے ایک خفیہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یمنی باغیوں نے حجةگورنری کے سیکڑوں بچوں کو جنگ میں جھونک دیا ہے۔ گذشتہ دو سال کے دوران آئینی حکومت کی حامی فورسز اور باغیوں کے درمیان جاری لڑائی میں کم سے کم 200 کم عمر بچے بھی لقمہ اجل بنے۔ یہ بچے باغیوں کی طرف سے جنگ کے لیے بھرتی کیے گئے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ باغی گروپ بچوں کی ہلاکتوں کے اعدادو شمار کو مخفی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ سیکڑوں بچے لڑائی میں شامل ہونے کے باعث جسمانی طور پر معذور ہوچکے ہیں۔باغیوں کے مسلسل جانی نقصان کے باعث بچوں کو آگے کیا جاتا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں بچے جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اب بھی حوثی اور علی صالح کے حامی باغیوں کی طرف سے بڑی تعداد میں بچوں کو جنگ میں جھونک رکھا ہے۔ زیادہ تر بچے حجة گورنری میں مختلف محاذوں پر باغیوں کی صفوں میں شامل ہیں۔