نواز شریف کا مولانا فضل الرحمن کو اہم خط

نواز شریف کا مولانا فضل الرحمن کو اہم خط

لاہور:مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف کمر کی شدید تکلیف کے باعث کوٹ لکھپت جیل میں قید اپنے بڑے بھائی اورپارٹی قائد محمد نواز شریف سے ملاقات کےلئے نہ جا سکے، شہباز شریف نے نواز شریف سے ملاقات کر کے جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ کے حوالے سے پارٹی کی سفارشات سے آگاہ کرتے ہوئے آئندہ کی رہنمائی حاصل کرنا تھی ۔


ملاقات کےلئے مختص دن کے موقع پر والدہ بیگم شمیم اختر، دامادکیپٹن (ر) محمد صفدر، نواسے جنید صفدر سمیت دیگر اہل خانہ نے کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کر کے ان کی خیریت دریافت کی اور دوپہر کا کھانا ہمراہ کھایا ۔ ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے بھی نواز شریف سے ملاقات کر کے ان کا طبی معائنہ کیا ۔

ذرائع کے مطابق کیپٹن (ر) محمد صفدر نے نواز شریف کو مریم نواز اور یوسف عباس کی احتساب عدالت میں پیشی کے حوالے سے آگاہ کرنے سمیت دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کمر میں شدید تکلیف کے باعث آزادی مارچ کے حوالے سے اپنے بڑے بھائی اور پارٹی قائد محمد نواز شریف سے ملاقات نہ کرسکے۔

شہباز شریف نے بدھ کے روزاپنی رہائشگاہ پر چار گھنٹے سے زائد وقت تک اجلاس کی صدارت کی جس میں آزادی مارچ کے حوالے سے پارٹی کی سفارشات تیاری کی گئیں لیکن طویل وقت تک بیٹھنے کی وجہ سے شہباز شریف کمر میں شدید تکلیف میں مبتلا ہو گئے جس پر ڈاکٹروں نے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے ۔

شریف خاندان کے افراد کی کوٹ لکھپت جیل آمد کے پیش نظر لیگی کارکنان صبح سویرے ہی کوٹ لکھپت کے باہر پہنچ گئے اور اپنی قیاد ت کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کا جوابی خط جے یو آئی (ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو موصول ہوگیاہے ۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف نے خط کے متن میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت دھاندلی زدہ ہے، اسکے خاتمے کے لئے (ن) لیگ جے یو آئی (ف) کے موقف کی حمایت کرتی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور کارکنان جے یو آئی(ف) کے ساتھ ہیں۔