جلیل شرقپوری سے جو سلوک کیا وہ نہیں ہونا چاہئے تھا،شہباز گل کی مذمت

 جلیل شرقپوری سے جو سلوک کیا وہ نہیں ہونا چاہئے تھا،شہباز گل کی مذمت

لاہور:معاون خصوصی شہباز گل نے  پنجاب اسمبلی  میں جلیل شرقپوری کے ساتھ  ناروا سلوک کی مذمت کردی اور سوال کیا کہ  کیا جلیل شرقپوری ووٹ لے کر پنجاب اسمبلی میں نہیں پہنچے؟حقیقت میں  انھوں نے نوازشریف کے بیانیے سے اختلاف کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز گل نے کہا کہ کسی بھی وزیراعلیٰ سے رکن صوبائی اسمبلی کا ملنا کوئی بری بات نہیں،  جب آپ اپوزیشن میں تھے تو کیا کیپٹن (ر) صفدر یوسف رضا گیلانی سے نہیں ملتے رہے۔

اپوزیشن کا مسئلہ  ووٹ کو عزت دو نہیں، لوٹ مار کو عزت دو ہے،اگر آپ یہ کام کرتے ہیں تو درست کوئی اور کرے تو  غلط ہے۔

معاون خصوصی نے مزید کہا کہ عدالت سے سزا ملنے کے بعد مجھے کیوں نکالا کا بیانیہ دیا گیا،اپوزیشن جماعتیں عوام کو بیوقوف بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، مجھے کیوں نکالا کے بعد بیانیہ آیا ووٹ کو عزت دو، ایک باریش شخص رکن صوبائی اسمبلی جلیل شرقپوری کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے، جلیل شرقپوری کا قصور اتنا ہے انہوں نے نوازشریف کا بیانیہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔

شہباز گل نے مزید کہا کہ کیپٹن(ر) صفدر کا کہنا تھا حلقے کے فنڈ کیلئے اس وقت کےوزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملتا رہا، مسلم لیگ (ن) نے جلیل شرقپوری سے جو سلوک کیا ہے وہ نہیں ہونا چاہئے تھا،سابق حکومتوں میں نوازشریف کا یہی طرزعمل  رہا ہے، یہ کلچر شریف برادران نے متعارف کرایا،ماضی میں فدا حسین کا گروپ بنا تو نوازشریف نے جوائن کیا، نگران وزیراعلیٰ نوازشریف نے 4 حلقوں سے الیکشن لڑا تھا، انتخابی مہم کیلئے نوازشریف نے سرکاری وسائل استعمال کئے،نوازشریف پہلی بار مٹھائی کی ٹوکریوں کو عزت دے کر وزیراعلیٰ بنے تھے۔

معاون خصوصی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بے نظیر بھٹو کیخلاف تحریک عدم اعتماد کا اہتمام کیا گیا، چھانگا مانگا میں لوگوں کو بلاکر تالے لگا کر وفادارایاں حاصل کی گئیں،پہلی بار حکومت گراکرپچھلےدروازےسےآکروزیراعظم بنے،خلاف فیصلہ آیا تو نوازشریف نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا،ووٹ کو عزت دینے والابندہ تو بہادر ہوتا ہے،ایک آرمی چیف ملک سے باہر تھا اسے ہٹانے کی کوشش کی جبکہ ان کا جہاز اترنے نہیں دیا گیا، کہا گیا بھارت میں  اتر گیا۔