جنگ بندی برقرار نہ رہ سکی، آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئیں

جنگ بندی برقرار نہ رہ سکی، آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئیں
کیپشن:   دونوں ممالک کے درمیان مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے سے جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

باکو: آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی صرف 5 منٹ بھی برقرار نہ رہ سکی اور دوبارہ سے چھڑپیں شروع ہو گئیں۔ آرمینیا اور آذربائیجان نے ایک دوسرے پر عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورنوکاراباخ کے تنازع پر تقریباً دو ہفتے سے جنگ جاری ہے اور روس کی کوششوں سے دونوں ممالک نے عارضی طور پر سیزفائر پر اتفاق کیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے سے جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہوا۔ تاہم جنگ بندی صرف 5 منٹ ہی برقرار رہ سکی اور دونوں نے ایک دوسرے پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

آرمینیاکی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ انسانی بنیادوں پر ہونے والی جنگ بندی کے نفاذ کے صرف پانچ منٹ بعد آذربائیجان نے کاراخان بیلی پر حملہ کیا۔ دوسری جانب آذربائیجان کا کہناہے کہ آرمینیا جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کررہاہے، فرنٹ لائن پر دو سمتوں سے حملے ہوئے ہیں۔

اُدھر غیر ملکی خبررساں ادارے نے آذربائیجان میں اپنے نمائندے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ آذربائیجان کی عوام نے ’عارضی جنگ بندی‘ کا خیرمقدم نہیں کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آذری عوام کا خیال ہے کہ آذربائیجان کو 30 سالوں میں پہلی بار عسکری طور پر آرمینیا پر برتری حاصل ہے اور آذربائیجان سمجھتا ہے کہ طویل جنگ بندی آرمینیا کی پوزیشن مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔

خیال رہے کہ عالمی سطح پر ’نگورنو کارا باخ‘ آذربائیجان کا تسلیم شدہ علاقہ ہے تاہم اس پر آرمینیا کے قبائلی گروہ نے فوج کے ذریعے قبضہ کررکھا ہے جب کہ اسی قبضے کے باعث پاکستان آرمینیا کو تسلیم نہ کرنے والا واحد ملک ہے۔

ان دو ہفتوں کی جنگ میں آذربائیجان نے نگورنو کاراباخ کے متعدد علاقوں سے قبضہ چھڑا لیا ہے اور اپنی پوزیشن مستحکم کرلی ہے۔