فرد جرم تک کا سفر

فرد جرم تک کا سفر

تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے خان صاحب پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے 22ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ ہم  نے 8ستمبر کو شائع ہونے والے اپنے کالم ”شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے“کے آخر میں عرض کیا تھا کہ ”خان صاحب جو واویلا کر رہے ہیں اس میں کوئی ان پر زیادتی نہیں کر رہا بلکہ وہ خود اپنے ساتھ زیادتی کے مرتکب ہو رہے ہیں اور اس کا خمیازہ قوی امید ہے کہ اب انھیں عدالتوں میں بھگتنا پڑے گا اور آنے والے دنوں میں لاڈلے پن میں کمی اور انھیں پتا چلنا شروع ہو جائے گا کہ وقت میں تبدیلی کیا قیامت برپا کرتی ہے۔“خدا نے ہماری عزت رکھ لی اور قیامت کس طرح برپا ہوتا ہے اس کی منظر کشی جمعرات کی سماعت کے دوران ٹی وی اسکرینوں پر چلنے والے ٹکرز اور ساتھ میں مبصرین کی رائے سے ہو رہی تھی اور اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہو رہا تھا کہ گذشتہ اور موجودہ سماعت کے دوران عدالت کے مزاج میں کس حد تک تبدیلی آئی ہے اور اس تبدیلی کو کسی خاص جواز کا جامہ پہنانا قطعی ضروری نہیں بلکہ عدالت نے اپنے اوپر کسی بھی قسم کے اعتراض کو رد کرنے کے لئے گذشتہ سماعت کے دوران اپنا رویہ انتہائی نرم بلکہ جس حد تک ہو سکتا تھا صلح جوئی کا رکھا اور جو رعایت دانیال عزیز، نہال ہاشمی اور طلال چوہدری کو نہیں دی وہ بھی بڑے مہربان انداز او ر کلام کے ساتھ خان صاحب کو دی گئی اور اسی بات کو چیف جسٹس صاحب نے جمعرات کو دوران سماعت کہا بھی کہ ہم نے خان صاحب کو موقع دیا لیکن انھیں معاملہ کی سنگینی کا احساس نہیں ہوا اور معافی مانگنے یا اپنے کئے پر ندامت کے اظہار کی بجائے فقط افسوس کے الفاظ پر ہی اکتفا کیا ہے۔عدالت نے جس انتہائی نرم لب و لہجہ میں خان صاحب کو معاملہ کی سنگینی کا احساس دلانے کی کوشش کی تھی اس کے باوجود بھی خان صاحب نے جو طرز عمل اختیار کیا عدالت کیا اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا اس کا مزاج بدلنا ہی تھا۔آپ غور کریں کہ عدالت نے کس حد تک تحمل کا مظاہرہ کیا تھا کہ گذشتہ سماعت پر چیف جسٹس کے سوا کسی نے کوئی ریمارکس تک نہیں دیئے۔ 

عدالت نے آخر آئین اور قانون پر ہی چلنا 

ہوتا ہے اور اسے اپنے سے اوپر جو عدالت ہے سپریم کورٹ اس کے فیصلوں سے انحراف ممکن نہیں ہے اور خان صاحب کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کی ایک اور مجبوری ہے کہ جو کسی اور کیس میں نہیں تھی کہ دانیال عزیز ہوں یا نہال ہاشمی یا طلال چوہدری انھوں نے جو توہین عدالت کی اول تو اس کی نوعیت مختلف تھی کہ انھوں نے کسی جج کا نام نہیں لیا تھا بلکہ فیصلوں پر نا مناسب انداز  اور الفاظ میں تنقید کی تھی۔ ایسے کیسز میں ججز اگر چاہیں تو غیر مشروط معافی یا وارننگ دے کر کیس ختم کر سکتے ہیں کیوں بات ان کی اپنی ذات اور اپنے فیصلوں کی ہوتی ہے کہ اگر سزا دے دیں تو تب بھی وہ آئین اور قانون کے مطابق ہو گی اور اگر درگزر سے کام لیں تو یہ ان کی اعلیٰ ظرفی پر معمور کیا جاتا ہے لیکن یہاں معاملہ دو طرح سے مختلف ہے کہ اول تو یہ صرف جوڈیشل توہین عدالت نہیں ہے بلکہ ساتھ ساتھ کرمنل توہین عدالت کا کیس بھی ہے کہ جس کی جانب محترم چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ بار بار توجہ دلا رہے تھے۔ اس لئے کہ خان صاحب نے صرف فیصلے پر تنقید نہیں کی بلکہ خاتون جج کو دھمکیاں بھی دیں اور یہ کسی اخباری بیان میں نہیں ہوا بلکہ ایک اور جمع ایک دو جلسوں میں انتہائی واضح الفاظ میں دھمکی آمیز الفاظ کہے گئے۔ اب یہ سب کچھ اگر سماعت کرنے والے کسی جج کے حوالے سے کہا ہوتا تو خان صاحب کے خلاف اس کیس کو ختم کرنا بڑا آسان ہوتا لیکن مسئلہ یہ بن رہا ہے کہ ایک تو کرمنل توہین عدالت اور دوسرا کسی اور کے خلاف ہوئے اقدام کو تحفظ دینا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور پھر اس صورت میں تو بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے کہ جب اس سے کہیں کم درجہ کی توہین پر سپریم کورٹ نے ایک سے زائد افراد کو نا اہل ہی نہیں بلکہ نہال ہاشمی کو مہینے بھر کے لئے جیل یاترا بھی کروائی ہو۔

اس کے علاوہ بھی کچھ ایسی وجوہات ہیں کہ جن کی وجہ سے خان صاحب کے لئے اس کیس سے جان چھڑانا آسان کام نہیں ہے۔ ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی خان صاحب پر توہین عدالت کا کیس بنا تھا جو ان کے افتخار چوہدری کے خلاف نازیبا ریمارکس کے حوالے سے تھا۔ اب اس کیس کے حوالے سے سے خان صاحب کے لئے ایک نہیں بلکہ دو طرح کی مشکلات ہیں ایک تو یہ کہ خان صاحب اب بھی جس طرح اداروں کے متعلق جن الفاظ، لہجہ اور مفہوم میں ایک تسلسل کے ساتھ عوامی اجتماعات سے خطاب کے دوران اظہار خیال کرتے ہیں اس تناظر میں جب گذشتہ توہین عدالت کے کیس کو ساتھ ملا کر دیکھا جائے گا تو یہ ایک عادی مجرم جیسا طرز عمل نظر آتا ہے۔ دوسرا گذشتہ توہین عدالت کے کیس میں 2014میں خان صاحب نے سپریم کورٹ میں اپنے حلفیہ بیان میں غیر مشروط معافی مانگی تھی اور کہا تھا کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر خان صاحب موجودہ کیس میں غیر مشروط معافی مانگ بھی لیتے ہیں تو اگر توہین عدالت ثابت ہو جائے تو اول تو اس کیس کی سماعت کرنے والے بنچ کے پاس انھیں معافی دینے کا اختیار اس وجہ سے نہیں ہے کہ توہین عدالت اس بینچ کے کسی رکن کے خلاف نہیں ہوئی بلکہ ماتحت عدالت کی ایک خاتون جج کے خلاف ہوئی ہے اور عین ممکن ہے کہ اگر وہ معاف کر دیں تو معافی تلافی ہو جائے لیکن یہ تو اس وقت ہو گا کہ جب خان صاحب اپنے جرم کا اقرار کر کے معافی مانگے گے لیکن جیسے ہی خان صاحب معافی مانگے گے تو اس کے ساتھ ہی ایک اور توہین عدالت از خود سرزد ہو جائے گی کہ خان صاحب نے اپنے خلاف گذشتہ توہین عدالت میں جس معافی نامہ میں سپریم کورٹ کو اپنے حلفیہ بیان میں یقین دہانی کرائی تھی کہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے تو اس حلفیہ بیان کی خلاف ورزی پر ایک اور کیس بن جائے گا۔ خان صاحب کے ستارے اچھے ہوئے تو الگ بات ہے ورنہ یہ معاملہ ان کے لئے نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والا بن گیا ہے۔ آخر میں ایک بات قارئین کے گوش گذار کرتے چلیں کہ طلال چوہدری، دانیال عزیز، نہال ہاشمی، یوسف رضا گیلانی پارٹی سربراہ نہیں تھے اور جہاں تک میاں نواز شریف کی بات ہے تو ان کی نا اہلی سے یقینا نواز لیگ کو ایک دھچکا لگا تھا لیکن مریم نواز نے بڑی حد تک اس کمی کو پورا کر دیا تھا اور پھر نواز لیگ کی قیادت شریف خاندان سے ہے اور مریم نواز کے علاوہ بھی شہباز شریف اور حمزہ شہباز موجود تھے۔ اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی میں زرداری صاحب کے ساتھ بلاول اور ان کے ساتھ آصفہ بھٹو زرداری ہیں لیکن تحریک انصاف میں عمران خان کے بعد یقینا شاہ محمود قریشی اور اسد عمر ہیں لیکن جس طرح مریم اور بلاول متبادل بن کر ابھرے ہیں تو یہ صلاحیت عمران خان کے بعد تحریک انصاف کے کسی اور رہنما میں نہیں۔ 

مصنف کے بارے میں