میاں جدوں آئے گا، لگ پتا جائے گا

میاں جدوں آئے گا، لگ پتا جائے گا

آج کا زیرِ قلم کالم تاریخ کا ادراک، قلم اور زبان کی حرمت کے ساتھ زمینی حقائق جاننے کی کوشش ہے۔ وطن عزیز کی تاریخ سیاسی، سماجی اور معاشرتی حوالے سے میرے سامنے ہے۔ میں اکثر کہتا ہوں میری لائبریری تاریخ اور میرا تجربہ میرا تجزیہ ہے۔ ایک نسل 2011 سے بہکائی گئی، جو نہیں جانتی اس ملک کی جمہوری جدوجہد میں کس کس کی کیا کیا قربانیاں ہیں۔ آج میں بڑے بڑے ”دانشوروں اور تجزیہ کاروں“ کے تجزیے سنتا ہوں، پڑھتا ہوں اور ان کو دیکھتا بھی ہوں۔ ہر کوئی عمران احمد خان نیازی کی مقبولیت میں اضافہ ہونے کی درفنطنی چھوڑتا ہے۔ دراصل معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ آپ حالیہ چند سال کے سانحات اور واقعات پر نظر ڈالیں اس کے علاوہ کیا کوئی دوسری رائے ہے کہ عمران خان کو مسلط کیا گیا ورنہ یہ انتخابات میں کامیاب نہیں تھے۔ 2013 عمران کی اپنے لحاظ سے مقبولیت عروج پر تھی مگر انتخابات کے نتائج میں وہ تیسرے نمبر پر بھی نہ تھے۔ عمران کی مقبولیت کی باتیں کرنے والے دھوکہ دے رہے ہیں یا پھر اس قابل نہیں ہیں کہ ان کی بات پر توجہ دی جائے۔ عمران نیازی کی شخصیت، کارکردگی اور کردار (یہاں صرف سیاسی کردار کی بات ہو رہی ہے، ذاتی کردار کے متعلق لکھنے کی تہذیب اجازت نہیں دیتی) اس اہمیت کا حامل نہیں کہ اس پر کوئی مثبت بات کی جائے۔ 40/50 لوگوں کی دعوت تھی، میرا یار ابرار بھٹی ایک معروف کالم نگار کو بھی ساتھ لے کر آیا۔ یہ 1994 کی بات ہو گی، وہ کالم نگار کہنے لگے کہ عمران خان اور حمید گل اس ملک میں سیاسی کردار ادا کریں گے۔ میں نے ان سے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں صاحب کی زندگی میں یہ کسی احمق کی سوچ ہو سکتی ہے، حقیقت نہیں۔ ان دنوں عمران نیازی حمید گل کی انگلی پکڑ کر دشت سیاست میں عملی طور پر آ چکے تھے۔ پس منظر میں بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ ضیاالحق کی ایک خاص یہودی دوست نے عمران کی سفارش کی تھی۔ ضیاالحق سے حمید گل پھر مشرف کے پولنگ ایجنٹ اس کے بعد جنرل پاشا، ظہیر اسلام سے اب تک کی گود سے گود کے سفر کو نیازی صاحب جدوجہد کا نام دیتے ہیں۔ بی بی شہید ہوئیں، یہ تاریخ ہے۔ اس کے بعد عمران نیازی کی اسٹیبلشمنٹ کی پولٹری فارم میں افزائش ہوئی۔ ق لیگ، ایم کیو ایم بہت سی سیاسی جماعتوں میں سے لوگ اکٹھے کر کے پی ٹی آئی میں شامل کرائے گئے۔ انتخابات سے پہلے، انتخابات کے دن اور انتخابات کے فوری بعد 2018 میں 25 جولائی کے دن خان کو لانے والے سرِ شام سر نہ پکڑ کر بیٹھ گئے، میاں نوازشریف کی لاکھ لاکھ کی لیڈ تھی۔ بہرحال عمران نیازی مسلط کر دیا گیا اور ایک پیج عوام میں عام ہوا۔ ملک و قوم، معاشرت و معیشت، سیاست اور نظام زمین بوس ہو گئے۔ مڈل کلاس ختم ہو گئی، غریب ترین یا پھر فقیر اور امیر ترین لوگ رہ گئے۔ عمران نیازی کے دور میں مافیاز طاقتور ہوئے یہ ملک بے آئین زمین بن گیا جتنا امریکہ اور بھارت کو عمران نیازی نے Serve کیا ہے کسی جمہوری حکمران نے نہیں کیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے محرکات پر ابھی وقت نہیں پھر کبھی بات ہو گی لیکن ان کی شہادت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ عمران نیازی کے لیے جگہ بنائی گئی اور کچھ اس انداز سے کہ آئین قانون معاشرت کے اصول بالائے طاق رکھ دیئے گئے۔ 2011 کے بعد عمران خان ہوائی فائرنگ کرے یا 

سیدھی اس کے لیے یہ زمین بے آئین ہے دوسری جانب وقت کے حاکم اپنی ہی حکومت میں عدالت کے کٹہروں میں کھڑے کھڑے وزارت عظمیٰ سے فارغ کر دیئے گئے، گیلانی ہوں یا میاں محمد نوازشریف کیونکہ بقول مولانا فضل الرحمن کے مورچہ عدلیہ میں فٹ تھا۔ جب عمران پراجیکٹ والوں کے کندھوں پر بوجھ اس حد تک بڑھ گیا کہ پیاز فروش اور دیہاڑی دار مزدور بھی ایک ادارے کی قیادت کو مورد الزام ٹھہرانے لگا تو پھر عمران حکومت کی غلاظت بھری ٹوکری اٹھانے کو کوئی تیار نہ تھا، ملک بچانے کی خاطر پی ڈی ایم اور صدر زرداری خاص طور پر ن لیگ نے اپنی سیاسی ساکھ کو قربان کیا اور وطن بچا لیا۔ سب کو یاد ہے میاں محمد نوازشریف آئی ایم ایف کو گڈبائی کہہ چکے تھے مگر عمران حکومت نے 70 سال میں لیے جانے والے قرض کا 80 فیصد صرف تین سال میں لیا اور بین الاقوامی معاہدہ سے روگردانی کر کے ملک کو اندرونی بیرونی طور پر پاتال میں اتار دیا۔ اب ٹوئٹر پر جو چہرے میں دیکھتا ہوں کہ نیازی کی مقبولیت بہت ہے دراصل ان کی سوچ محدود ہے، Paid Contant ہے، ورنہ میاں صاحب کا ایک ووٹر بھی اِدھر اُدھر نہیں ہوا اور میں نے کوئی ایک شخص نہیں دیکھا جو عمران حکومت کے خلاف تھا وہ اب نیازی کے حق میں ہو گیا ہو۔ دراصل بی بی شہید کے بعد نوازشریف جدوجہد کی لازوال داستان ہیں۔ 1993 میں سیاسی بددیانت وطن عزیز کے حکمران طبقوں کے سب سے بڑے آسیب غلام اسحق خان سے وطن کو چھٹکارہ دلانے کے بعد میاں نوازشریف پیپلزپارٹی یا جناب بھٹو مخالف قوتوں کے مسلمہ طور پر لیڈر بن کر ابھرے، ورنہ اس سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کی نگرانی میں اتحاد ہی بنتے تھے کبھی قومی اتحاد کبھی آئی جے آئی بہرحال اقتدار میں آئے مگر اقتدار میں لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا۔ دوسری جانب عمران خان کے ساتھ تو ایک شخص بھی نہیں جو پہلے ساتھ تھا وہ اب اس کے ساتھ ہو، زمین آسمان کا فرق ہے۔ عمران نیازی مفت بر، کنجوس، کاذب اعظم، بے بھروسہ، ناقابل اعتبار، بے وفا،خودستائش، نرگسیت پسند، نااہل، خائن، قانون اور آئین سے بالا، نان جینوئن اور سب سے بڑھ کر ہمیشہ نیچے والا ہاتھ رہا ہے جبکہ میاں محمد نوازشریف دیالو، فیاض، قابل اعتماد، وفا شعار، دوسروں کی عزت، آنکھ میں حیا، لحاظ کرنے والا، اہل اور قانون کا احترام کرنے والی جینوئن شخصیت ہیں ہمیشہ اوپر والا ہاتھ رہے ہیں۔ حدیث مبارکہ ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے (مفہوم)۔ نوازشریف کے دور میں ملک نے ہمیشہ ترقی کی، بین الاقوامی وقار میں اضافہ ہوا، نیازی دور ہر لحاظ سے تباہ کن تھا جہاں تک سیاست کا تعلق ہے بلاول بھٹو نے کہا تھا اگر اسٹیبلشمنٹ ساتھ نہ ہو تو عمران حکومت ایک ہفتے کی مار ہے، وہی ہوا اسٹیبلشمنٹ نے نیوٹرل ہونے کا اعلان کیا محترمہ مریم نواز اور بلاول بھٹو نے حکومت کو چلتا کیا۔ سیاست کے حوالے سے میاں نوازشریف اور سابق صدر آصف علی زرداری تو بہت دور کی بات عمران خان کی سیاسی کھٹیا تو بلاول بھٹو اور محترمہ مریم نواز نے ہی کھڑی کر دی تھی۔ سابق صدر آصف علی زرداری تو پی ٹی آئی کو سرے سے سیاسی جماعت ہی نہیں مانتے۔ ابھی ملک میں سیاست دان سیاست نہیں سیلاب زدگان کی مدد اور عمران نیازی کے دور کی تباہ کاری کا ازالہ کر رہے ہیں، سیاست ابھی نہیں چل رہی۔ دیگر لوگ سیلاب زدگان اور وطن بچانے کے لیے کوشاں اور فکرمند ہیں۔ سیلاب میں کروڑوں لوگ برباد ہو گئے ساڑھے 6 لاکھ خواتین حاملہ ہیں، بچے بیمار ہیں، روٹی کپڑا اور چھت نہیں، پانی ہی پانی ہے۔ نیازی صاحب جلسوں میں اداکاری کر رہے ہیں جس دن سیاست شروع ہو گئی ایک ہزار عمران نیازی بھی میاں محمد نوازشریف کے ہم پلہ نہیں ہو گا۔ جناب میاں محمد شریف کا فرزند چلتے لمحے کی مقبول ترین قیادت ہے، ٹوئٹر کی نہیں حقیقت کی بات ہے کوئی مذاق نہیں، تین دفعہ کا وزیراعظم، دل کا مریض اور بے گناہ جیل میں ملاقات کے لیے آئی بیٹی گرفتار کر لی جائے۔ بیرون ملک سے گرفتاری دینے آئیں میاں صاحب اور ان کے خاندان نے جیل، جلاوطنی بھی اور دکھ بھی دیکھے۔ نیازی صاحب ہوتے تو اپنے اجداد کا نام بھول جاتے۔ میاں نوازشریف نے انفرا سٹرکچر دیا، موٹرویز دیئے، بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کی، ایٹمی دھماکے کر کے ملک کو ایٹمی قوت بنایا، سی پیک دیا، سیاست میں رواداری، وضع داری اور پارلیمنٹ کی سپرامیسی کے لیے قربانیاں دیں جبکہ عمران نے سیاست میں بدزبانی اور جھوٹ کے نئے ریکارڈ بنائے۔ حیرت ہے یحییٰ خان فوجی گاڑیوں کے پارٹس کے لیے اتفاق فونڈری کا وزٹ کر رہا ہے۔ آج میاں نوازشریف سے لینے والے پوچھ رہے ہیں تمہارے پاس پیسہ کہاں سے آیا۔ میاں محمد نوازشریف چاہے جیل میں ہوں یا باہر، محترمہ مریم نواز کی للکار کی گونج نیازی کو بنی گالا میں محدود کر دے گی۔ یہ لکھ کر پھر دے رہا ہوں، ”میاں جدوں آئے گا، لگ پتا جائے گا“۔

مصنف کے بارے میں