Enough is Enough!

Enough is Enough!

Enough is Enough انگریزی کے تین الفاظ پر مشتمل ایک قول ہے۔ عام طور پر یہ اس وقت بولتے یا لکھتے ہیں جب یہ بتانا مقصود ہو کہ بہت ہو گیا ہے یا آپ نے بہت کر دیا ہے، اب آپ ختم کر دیں، اس سے زیادہ برداشت نہیں ہوگا۔ راقم نے اپنے کالم کے عنوان کے طور پر انگریزی کا یہ قول تحریک انصاف کے چئیرمین کے منگل کے روز جاری کردہ ایک ٹویٹ سے لیا ہے۔ یہ ٹویٹ انہوں نے اس روز پشاور کے جلسہ عام میں اپنے خطاب سے قبل جاری کیا۔ اس ٹویٹ کا پس منظر اور پیش منظر یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ جناب عمران خان نے اتوار کو فیصل آباد کے جلسہ عام میں اپنے خطاب میں اعلیٰ عسکری قیادت کے بارے میں ایسے ریمارکس دیے تھے جن سے اعلیٰ عسکری قیادت کو متنازع اور ان کی وطن سے محبت کو مشکوک بنانے کے دانستہ کوشش کی گئی تھی۔ جناب عمران خان نے پاک فوج کے چار یا پانچ سینئر تھری سٹار جرنیلوں جن میں سے کسی ایک کو نومبر میں آرمی چیف تعینات کیا جا سکتا ہے کی وطن سے محبت اور وفاداری پریہ کہہ کر شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا کہ زرداری اور نواز شریف نومبر میں اپنی پسند کا جرنیل بطورِ آرمی چیف لانا چاہتے ہیں۔ ان کی پوری کوشش ہے کہ ایسا آرمی چیف لائیں جو ان کے حق میں بہتر ہو۔ وہ تگڑے اور محبتِ وطن آرمی چیف سے ڈرتے ہیں کہ ایسا آگیا تو وہ ان سے پیسوں کا پوچھے گا جو انہوں نے چوری کر رکھے ہیں۔ 

جناب عمران خان کے فیصل آباد کے جلسہ عام میں اعلیٰ عسکری قیادت کے بارے میں دیئے گئے ان ریمارکس کا مطلب صاف ظاہر تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ آرمی کی سینئر ترین قیادت میں ایسے جرنیل موجود ہیں جو تگڑے نہیں ہیں اور وطن سے ان کی محبت بھی مشکوک ہے۔ بلاشبہ یہ انتہائی نازیبا اور ہتک آمیز ریمارکس تھے جن کے بارے میں سخت ردِ عمل کا اظہار ہونا لازمی امر تھا چنانچہ فوجی ترجمان کی طرف سے فی الفور اسکا سخت جواب دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے عمران خان کے اس بیان کو ہتک آمیز، ملکی مفاد کے منافی اور نازک وقت میں فوج کی سینئر قیادت کو نشانہ بنانے کے مترادف قرار دے کر یہ بھی کہا گیا کہ فوج میں اس بیان پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ جناب عمران خان کا یہ بیان فوجی ترجمان کے علاوہ اور بھی بہت سارے قومی حلقوں کو انتہائی ناگوار، غیر مناسب اور وطن دشمن  خیالات کا حامل لگا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ہتک آمیز بیان پر صدر مملکت عارف علوی جن کا بنیادی تعلق تحریک انصاف سے ہے اور جو صدرِ مملکت کے بلند ترین ریاستی منصب پر فائز ہونے کے باوجود  اپنے آپ کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا ادنیٰ کارکن سمجھتے ہوئے ان کے اشارہ ابرو پر ہر آئینی یا غیر آئینی قدم اُٹھانے یا کم از کم موجودہ حکومت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں انھیں بھی یہ کہنا پڑا کہ آرمی چیف سمیت پوری فوج محبِ وطن ہے۔ 

عمران اپنی بات کی خود وضاحت کریں کہ اس سے ان کا مقصد کیا تھا۔ اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب اطہر من اللہ جو بڑے روشن خیال اور شخصی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے بڑے نقیب سمجھے جاتے ہیں انھوں نے بھی یہ کہ کر اس بیان پر تنقید کی کہ یہ کہنا نا ممکن ہے کہ افواجِ پاکستان میں کوئی غیر محب وطن ہو سکتا ہے۔ عمران کے بیانات غیر ذمہ دارانہ اور ریلیف کی امید نہ رکھیں۔ جناب عمران خان کے اس بیان پر اور بھی کئی محب وطن حلقوں کی طرف سے سخت ردِ عمل کا اظہار سامنے آیا۔ معروف سنیئر صحافی اینکر پرسن اور یوٹیوب  وی لاگر سید طلعت حسین نے  "عمران کا غصہ اور پی ٹی آئی کی بند گلی"کے عنوان سے اپنے یو ٹیو ب وی لاگ پروگرام میں اس بارے میں تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی، راقم نے بھی اس پروگرام میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا "بلا شبہ عمران خان اپنے آپ کو بند گلی میں پہنچا چکے ہیں وہ فرماتے ہیں Enough is Enough، ان کا یہ کہنا یقینا درست سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ اتنا گند پھیلا چکے ہیں،قومی سلامتی کے اداروں کو اتنا نشانہ بنا چکے ہیں، قابل احترام شخصیات پر اتناکیچڑ اچھال چکے ہیں اور وطن دشمنی میں اتنا آگے جا چکے ہیں کہ اس سے مزید آگے جانے کی گنجائش نہیں۔ قدرت کے ہاں دیرہے اندھیر نہیں وہ وقت دور نہیں جب عمران خان، فواد چوہدری، شیریں مزاری اور اسطرح کے دوسرے لوگوں کو اپنے کیے اور کہے کا حساب دینا ہوگا۔ حذر اے چیراں دستاں، سخت ہیں فطرت کی تعزیریں۔  "

راقم نے محترم سید طلعت حسین کے پروگرام میں دی گئی اپنی رائے میں عمران خان کے ساتھ شیریں مزاری  اور فواد چوہدری جیسے تحریک انصاف کے راہنماؤں کا حوالہ اس لیے دیا تھا کہ بجائے اس کے کہ یہ لوگ عمران خان کے اس ناروا، نا مناسب اور ہتک آمیز بیان پر انہیں معذرت کے لیے آمادہ کرتے الٹا انہوں نے ہلا شیری سے کام کیا۔ شیریں مزاری نے آئی ایس پی آر کے ردِ عمل پر شدید تنقید کی اور یہ وضاحت پیش کی کہ عمران خان کے بیان کو صحیح نہیں سمجھا گیا جبکہ فواد چوہدری نے اونچی ہواؤں میں اُڑتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کس کی مجال ہے کہ عمران خان کے خلاف کوئی کاروائی کرے۔ لوگوں کی آنکھوں میں خون اُترا ہوا ہے ہم نے ان کو روک رکھا ہے ورنہ اسلام آباد میں حکمرانوں کا رہنا محال ہو جائے گا۔ یہ وہ سیاق و سباق تھا کہ جناب عمران خان نے منگل کو پشاور کے جلسہ عام میں خطاب کرنے کے لیے جانے سے قبل Enough is Enough والی ٹویٹ کی۔ اس ٹویٹ کے ذریعے بالواسطہ یہ پیغام دیا کہ فیصل آباد کے جلسہ عام میں میں نے جو کچھ کہا اس سے بڑھ کر آپ کے خلاف کہنے کے لیے تیار ہوں۔ پشاور کے جلسہ عام میں جو کچھ کہوں گا، آپ اس کو سننے کے لیے تیار رہیں۔ 

پشاور کے جلسہ عام میں جناب عمران خان نے جو کچھ کہا اور اس سے اگلے دن بہاولپور چشتیاں کے جلسہ عام میں ان کے جو فرمودات سامنے آئے ان کی تفصیل میں نہیں جاتے  لیکن اتنی بات ظاہر ہے کہ انہیں عسکری قیادت کے خلاف ناروا، نازیبا،  ہتک آمیز اور وطن دشمنی پر مبنی ریمارکس یا بیان دینے پر کوئی ندامت یا پشیمانی نہیں ہے۔ وہ عسکری قیادت کو بلاواسطہ اور ملکی دفاع کے ضامن ادارے مسلح افواج کو بالواسطہ اپنی نازیبا اور غیر محب وطن خیالات کی حامل تنقید کا مسلسل نشانہ بنائے ہوئے ہیں لیکن وہ جو کہتے ہیں اور جس کا میں نے اوپر سید طلعت حسین کے وی لاگ پروگرام کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے حوالہ دیا کہ قدرت کے ہاں دیرے ہے اندھیر نہیں اس کا ایک واضح مظہر سامنے آ چکا ہے۔ جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل کورٹ بینچ کا فیصلہ سامنے آ چکا ہے جس میں عمران خان پر توہین عدالت کیس میں 22ستمبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔ عدالت نے عمران خان کے خلاف ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکیاں دینے کے الزام میں توہین عدالت کیس میں عمران خان کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرمنل توہین عدالت حساس معاملہ، ڈسٹرکٹ کورٹ ریڈ لائن، جرم کی نوعیت سنجیدہ، ابھی تک معاملے کی سنگینی کا اندازہ نہیں۔ کیا کسی کی انا عدلیہ کے وقار کے معاملے میں زیادہ اہم ہے کہ سوشل میڈیا کا جھوٹے پروپیگنڈے کے لیے استعمال ہو اور عدلیہ اس کا نشانہ بنے۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں دیئے گئے یہ ریمارکس یقناً ایسے ہیں جو زبانِ حال سے بہت کچھ کہہ رہے ہیں ان سے جناب عمران خان کے ٹویٹ میں دیئے گئے انگریزی قول Enough is Enough کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ انسان جب حد سے بڑھ جائے اور وہ ضد، ہٹ دھرمی، انا پرستی سمیت انتقامی جذبات سے سرشار ہو کر سب کچھ تہس نہس کرنے کی راہ پر چلنا شروع کر دے تو پھر ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب اسے لینے کے دینے پڑجاتے ہیں۔ جناب عمران خان اور ان کے ساتھی عوام میں اپنی مقبولیت کے زعم میں کیا کچھ کر رہے ہیں، وہ اس ملک کی جڑوں کو کتنا کھوکلا کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں، اخلاقی قدروں، شائستگی،ادب و آداب، چھوٹے بڑے کی تمیز اور روایات و اقدار کا جو جنازہ اس درو میں ان کی وجہ سے نکل چکا ہے تاریخ اس پر انھیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ جناب عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے علاوہ بھی قومی زندگی سے تعلق رکھنے والے دیگر طبقات میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو چور ہیں، ڈاکو ہیں، لٹیرے ہیں، بد عنوان ہیں اور وطن دشمنی میں ملوث ہیں تو انھیں بھی سمجھ لینا چاہیے کہ تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے وہ کسی کو معاف نہیں کرتی، جو جس نے کیا دھرا ہوتا ہے  وہ سب کچھ اس کے سامنے لے آتی ہے۔

مصنف کے بارے میں