'جے آئی ٹی کے پول کُھل رہے ہیں، واجد ضیا کو جواب دینا پڑے گا'

'جے آئی ٹی کے پول کُھل رہے ہیں، واجد ضیا کو جواب دینا پڑے گا'

اسلام آباد: احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ واجد کو عدالت میں کہنا پڑا کہ نواز شریف کی تنخواہ کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں یعنی جس الزام کے تحت مجھے نکالا اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا جب وہ ثبوت نہیں تو پھر یہ کیس ہے کیا؟ جو حقائق ہمارے حق میں جاتے تھے وہ بڑی عیاری سے چھپائے گئے لیکن پھر بھی جے آئی ٹی ناکام ہو گئی۔


انہوں نے کہا کہ کہتا آ رہا ہوں یہ فراڈ ہے اور ہمارے خلاف انتقام ہے جبکہ میں اللہ کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکتا کیونکہ کروڑوں عوام مجھ سے پیار کرتے ہیں اس لیے مجھے یہ برداشت نہیں کرتے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ واٹس ایپ پر جے آئی ٹی کے جو 6 ہیرے تلاش کیے گئے ان میں منگی کے علاوہ باقی 5 میں سے 3 ہمارے سیاسی طور پر بدترین مخالف ہیں۔ ان کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے اور پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈرز بھی ان کے قریبی عزیز ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں: ہمارے پاس طاقت نہیں کہ انگریزوں کے دور کے قوانین بدل سکیں، چیف جسٹس

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی میں ایک آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کا ممبر تھا۔ میرا کیس کوئی دہشت گردی کا کیس نہیں تھا، میں وفاق کے خلاف کوئی کام نہیں کر رہا تھا تو پھر آئی ایس آئی اور ایم آئی کو بیچ میں ڈالنے کی کیا ضرورت تھی یہ بہت اہم سوال ہے جو پوچھے جانا چاہیے اور ان لوگوں کو اس طرح کے کیس میں کیوں ڈالا گیا۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ لندن میں انویسٹی گیشن کے لیے جو کمپنی چنی گئی وہ واجد ضیاء کا فرسٹ کزن تھا اور واجد ضیاء کو جواب دینا پڑے گا اس کزن کو کتنے پیسے دیئے کیونکہ یہ پیسے قومی خزانے سے گئے اور یہ قوم کا پیسہ تھا آج نہیں تو کل واجد ضیاء کو اس کا جواب دینا پڑے گا اور قوم بھی اس کا احتساب کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا میرے کیس میں چن چن کر دور دراز سے لوگوں کو لایا گیا اور ان سے تفتیش کرائی کیونکہ اس کا مقصد من پسند رپورٹ حاصل کرنا تھا تاکہ مقدمے کے حقائق کچھ بھی ہوں لیکن فیصلہ ایسا کیا جائے جس سے نواز شریف کے خلاف سینوں میں انتقام کی خواہش کو پورا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج یہ رد عمل میرا نہیں قوم کا ہے اور آئندہ آنے والے وقت میں رد عمل بڑے گا۔

اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سےغیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا الیکشن میں وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو عوام کبھی ووٹ نہیں دیں گے اور ہماری پارٹی میں شامل لوگ وفادار ہیں۔ نیب الیکشن سے پہلے امیدواروں پر دباؤ نہ ڈالے جبکہ جنوبی پنجاب میں شہباز شریف نے مثالی کام کیے۔

مزید پڑھیں: نگران وزیراعظم کی تعیناتی، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ملاقات

 صحافی نے نواز شریف سے سوال کیا کہ کسی خاص مہمان کی آمد کے لئے اڈیالہ جیل کی صفائی کی خبریں چل رہی ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ اڈیالہ والوں کو کیسے پتہ چلا کہ کوئی آ رہا ہے۔

نواز شریف نے جواب دیا کہ چھ ماہ کی مدت ٹرائل مکمل کرنے کے لیے نہیں سزا دینے کے لیے تھی ابھی بھی آپ دیکھ لیں میرے دائیں بائیں وہ لوگ نہیں بلکہ کمیٹڈ لوگ ہوتے ہیں۔چوہدری نثار سے متعلق سوال پر نواز شریف نے کہا چوہدری نثار کے بارے میں قوم سب جانتی ہے۔ 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں