'شام کے معاملات میں براہ راست مداخلت کر کے مزید مشکلات میں نہیں پڑنا چاہتے'

'شام کے معاملات میں براہ راست مداخلت کر کے مزید مشکلات میں نہیں پڑنا چاہتے'

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ کئی ممالک کی فوج شام میں موجود ہے، ایران شام میں حکومت کی حمایت کر رہا ہے اور کسی ملک کی جانب سے شام میں فوج بھیجنے پر ردعمل نہیں دے سکتے۔


انہوں نےکہا کہ ہم شام کے معاملے میں فریق نہیں ہیں اور پاکستان شام کی صورتحال پر فی الحال غیر جانبدار ہے جبکہ ہم شام کے مسئلے کا حل مذاکرات سے چاہتے ہیں ۔ شام کے معاملات میں براہ راست شامل ہو کر مزید مشکلات میں نہیں پڑنا چاہتے کیونکہ پاکستان کو شام کے مہاجرین کی صورتحال پر تشویش ہے تاہم شام کے مسئلے کے حل کی سفارتی کوششوں میں پاکستان شریک ہے۔

اس موقع پر رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور نے سوال کیا کہ امریکی سفارتکار نے پاکستانی نوجوان کو گاڑی کے نیچے کچل دیا۔ سفارتکار کے معاملے پر پولیس اور دفتر خارجہ کیا کارروائی کر رہے ہیں؟

مزید پڑھیں: ہمارے پاس طاقت نہیں کہ انگریزوں کے دور کے قوانین بدل سکیں، چیف جسٹس

خواجہ آصف نےجواب دیا کہ روڈ حادثے میں ملوث امریکی سفارتکار ابھی پاکستان میں ہے اور امریکی سفارتخانے نے تحقیقات میں تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے اور پولیس بھی اس مسئلے پر کام کر رہی ہے۔ نوجوان کی ہلاکت پر قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔

وزیر خارجہ نے سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف کے دور میں لوگ پیسوں کےعوض امریکا کو دیئے گئے۔ گوانتا ناموبے میں بھی تین پاکستانی بغیر الزام کے قید ہیں اور اس معاملے پر امریکی حکام سے رابطے میں ہیں۔

رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم کی امریکی ایئر پورٹ پر تلاشی لی گئی اور امریکی پاکستان آتے ہیں تو بہت زیادہ پروٹوکول دیا جاتا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: 'جے آئی ٹی کے پول کُھل رہے ہیں، واجد ضیا کو جواب دینا پڑے گا'

علی محمد خان کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم نجی دورے پر امریکا گئے تھے ان کے لیے پروٹوکول کے لیے درخواست نہیں کی گئی۔ وزیراعظم قانون کے تابع رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کی جانب سےعام شہری کی طرح سفر کرنے میں کوئی عار نہیں۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں