قومی اسمبلی میں ٹیکس ایمنسٹی آرڈیننس پیش، اپوزیشن کی مخالفت

قومی اسمبلی میں ٹیکس ایمنسٹی آرڈیننس پیش، اپوزیشن کی مخالفت

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں ٹیکس ایمنسٹی آرڈیننس پیش کر دیا گیا۔ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے ٹیکس ایمنسٹی آرڈیننس ماننے سے انکار کر دیا۔


پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ایمنسٹی سکیم ملک لوٹنے اور منی لانڈرر کیلئے ہے جبکہ خون چوسنے والے طبقے کو خون کی ایک اور بوتل لگائی جا رہی ہے۔ پاکستانی قوم جتنی مقروض آج ہے اس پہلے کبھی نہیں تھی۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا یہ آرڈیننس اس طبقے کے لیے ہے جو چوری کرتے ہیں اور ملک کو لوٹتے ہیں جبکہ ہماری جماعت نے اس کی اصولی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ٹیکس ریٹ میں کمی کی ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور حکومت کا انحصار ان ڈائریکٹ ٹیکس پر رہا ہے جبکہ حکومت کو ڈائریکٹ ٹیکسیشنز پر توجہ دینی چاہیے۔

مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن نے سرکاری اداروں میں بھرتیوں پر پابندی عائد کر دی

پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا حکومت نے 27 تاریخ کو بجٹ پیش کرنا ہے اگر یہ اتنی اچھی اسکیم ہے تو بجٹ میں لائی جاتی اور لگتا ہے کسی خاص طبقے کو رعایت دینے کے لیے گنجائش دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر بھی اس سکیم کو قبول کرنے میں دقت محسوس کر رہے ہیں جبکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے ہمیں پہلے گرے لسٹ میں ڈال دیا اور ہم پہلے سے دنیا کی نظروں میں ہیں اس اسکیم سے آپ انگلیاں اٹھانے والوں کو تنقید کا موقع دے رہے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا پیپلز پارٹی کی حکومت نے 5 بجٹ پیش کیے یہ پہلی حکومت ہے جو 5 سالوں کی مدت میں 6 بجٹ پیش کر رہی ہے اور حکومت چند دنوں کی مہمان ہے کیونکہ رخصتی ہونے والی ہے۔ انہوں نے کہا پی ٹی آئی 12 ماہ کے بجٹ کو مسترد کرے گی جو حکومت 45 دن کی مہمان ہے اور دیکھیں اسمبلی میں کتنے حکومتی ارکان بیٹھے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں: عمران بھائی کو بھائی سے الگ کرنا چاہتے ہیں، مریم نواز

پیپلز پارٹی نے بھی ایمنسٹی اسکیم کو مسترد کر دیا۔ پیپلزپارٹی رہنما نوید قمر نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا حکومت آخری سسکیاں لے رہی ہے تاہم آرڈیننس سمجھ سے باہر ہے اور لوگ حکومت پر کیوں اعتماد کریں گے؟۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں