باپ سِراں دے تاج محمد

باپ سِراں دے تاج محمد

’’دوسروں کو صبر کی تلقین کرنا بہت آسان ہے لیکن خود صبر کرنا بہت مشکل کام ہے‘‘۔ یہ الفاظ محترمہ سیدہ حمیرہ مودودی اپنی کتاب ’’شجر ہائے سایہ دار‘‘ میں لکھتی ہیں جس کا مطالعہ میں نے آج سے تقریباً آٹھ سال قبل کیا تھا۔ تب بھی ان الفاط کی گہرائی کو محسوس کیا لیکن آج جبکہ ابو کی وفات کو ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے تو یہ الفاظ ذہن کے کسی نہاں خانے سے نکل کر سچائی کا مظہر بنتے نظر آتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صبر واقعی ایک کڑوا گھونٹ ہے اور بالخصوص اس وقت اس کو پینا نہایت مشکل ہے جب آپ اپنے کسی عزیز از جان رشتے کو کھو دیتے ہیں۔ قلم کی گرفت جتنی بھی مضبوط ہو کلیجہ ان کو مرحوم لکھتے ہوئے حلق کو آتا ہے۔ سر سے سائباں اٹھ جانے کے بعد دل کی حالت کشت ویراں جیسی ہے۔ قارئین میں لکھاری نہیں اور نہ ہی اپنے والد محترم جیسا قلم وقیع رکھتی ہوں لیکن بھلے الفاظ ٹوٹے پھوٹے ہی سہی لیکن ان کو خراج تحسین پیش کرنے کی حقیر سی کاوش کرنا اپنا فرض سمجھتی ہوں۔ اپنی ذات میں باکمال ان کی نمایاں اوصاف انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی تھیں یہی وجہ ہے کہ ان کی رحلت کے بعد ابتک ان پر لکھی جانے والی تحریروں کی تعداد کسی بھی وفات پا جانے والے صحافی سے زیادہ ہے۔ وہ زندہ دلی کے ساتھ ایک بھرپور زندگی جیئے اور اپنا ہر فرض و رشتہ بحسن خوبی نبھایا۔ زندگی میں عزت و کامرانی نصیب ہوئی یا حالات نے مایوسی و بیماری کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں لا کھڑا کیا، ان کی شخصیت بقول اقبال کچھ یوں تھی:

جہاں میں اہل ایمان صورتِ خورشید جیتے ہیں

اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے

علم و آگہی کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ہماری سوچ کے زاویے پتھر کے اس زمانے کے ہیں کہ جہاں بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دی جاتی ہے۔ بیٹیوں کا باپ ہونے کی حیثیت سے ابو کی شخصیت میں Patriarchy نام کو نہ تھی، وہ کمال کے وسیع النظر اور کشادہ ذہنیت کے مالک تھے۔ ایک خاندانی اور تہذیب و روایات کے پاسدار گھرانے کا چشم و چراغ ہوتے ہوئے نہ تو آج تک انہوں نے روایتی مردوں کی طرح میری امی کو اس قسم کا کوئی احساس دلایا اور نہ ہی انہوں نے اپنی بیٹیوں کو کسی بھی طور پر کم تر جانا۔ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ ابو نے ہمیں کبھی ’بیٹا‘ کہہ کر پکارا ہو۔ انہوں نے ہر موقع پر اور ہر جگہ پر انتہائی فخر سے ہمیں بیٹیاں کہہ کر متعارف کرایا۔ ہم چھ بہنیں شادی شدہ اور اپنے گھروں میں شاد و آباد ہیں۔ محدود وسائل ہونے کے باوجود ابو نے ہم سب کو پوسٹ گریجویٹ ڈگری ہولڈر بنایا۔ معاشرے کی دقیا نوسی ذہنیت کو ترک کر کے زندگی کے ہر موڑ پے ہم پر یقین و اعتماد کیا اور ہمیں سر اٹھا کر جینے کے قابل بنایا۔ یہاں میں آقائے دو جہاںﷺ کی ایک حدیث مبارکہ کو بیان کرنا چاہوں گی جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئیں پھر انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ساتھ ملاتے ہوئے آپﷺ نے فرمایا کہ میں اور وہ جنت میں اس طرح ساتھ ہونگے جس طرح یہ دو انگلیاں ملی ہوئی ہیں۔ والد محترم جنہوں نے چھ بیٹیوں کی انتہائی عمدہ پرورش کی تو پھر اللہ کی رحمت سے ان کا درجہ کس قدر بلند ہو گا۔

ابو گزشتہ چالیس سال سے زائد عرصے سے ذیابیطیس کے عارضے میں مبتلا تھے اوائل عمری سے لیکر تا دم مرگ انہوں نے اس بیماری کا نہایت جرأت و بہادری سے مقابلہ کیا۔ صبح ناشتے کے بعد Daonil کی ایک گولی کھا کر وہ اپنے کام میں جت جاتے تھے۔ وہ لوکل بس پر سفر کرتے یا زیادہ تر پیدل چلنے کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ ہم افراد خانہ کو کبھی محسوس نہیں ہوا کہ ان کو کوئی مرض سرے سے لاحق بھی ہے۔ مگر گزشتہ بارہ سے چودہ سال کے عرصے میں شوگر نے اپنے موذی اثرات جسم کے مختلف اعضا پر 

آشکارہ کرنا شروع کر دیئے تھے۔ 2013ء میں رات کے آخری پہر ہارٹ اٹیک ہوا تو نجی ہسپتال کے ICU میں داخل کر لیا گیا۔ اگلے دن صبح جب کارڈیالوجسٹ معائنہ کرنے آیا تو یہ جان کر ورطہ حیرت میں مبتلا ہو گیا کہ دل کے عارضے میں مبتلا مریض ICU کے بیڈ پر نیم دراز نہایت انہماک سے ڈان اخبار کا مطالعہ کر رہا ہے۔ وہ ابو کی ہمت کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکا۔ جب ذیابیطیس گردوں پر حملہ آور ہوئی تو اس کے ساتھ ابو کے جسم میں کمزوری اور طبیعت میں نقاہت بڑھنے لگی۔ لیکن وہ بیماری کو کبھی خاطر میں نہ لاتے تھے۔ ان کی قوت ارادی مثالی اور ہمت لاجواب تھی۔ ہسپتال میں بے سدھ پڑے اور مایوسیوں کے سمندر میں غوطہ زن ہوتے مریضوں کے درمیان ابو جیسا Fighter اور زندہ دل انسان اپنی مثال آپ تھا۔ ڈاکٹر اور نرسیں ان کی عزم و ہمت پر ہمیشہ ان کو سراہتے نظر آتے تھے۔ 2020-22 کے دوران گردوں کی خرابی میں دن بدن مزید اضافہ ہوتا گیا۔ جسم میں پانی جمع رہنے لگا اور کمزوری و بے چینی بڑھتی چلی گئی۔ ادویات کی تعداد بیس سے بائیس گولیاں روزانہ ہو گئی لیکن اندر کوئی روحانی طاقت اس مرد خدا میں تھی کہ جیسے جیسے ان کے جسم کے اعضا تنزلی کی طرف جا رہے تھے ویسے ویسے ان کی قوت ارادی مضبوط تر ہوتی جا رہی تھی۔ وہ اپنے رب کے حضور پیش ہونے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ ڈائلسز کیلئے جانے سے پہلے نقاہت اور کمزوری کے باوجود انہوں نے با آواز بلند ’’لبیک اللھم لبیک‘‘ کا ورد کیا۔ یہ آخری الفاط تھے جو انہوں نے اپنے مکمل ہوش و ہواس میں کہے اور پھر گہری غنودگی میںچلے گئے۔

حرص و لالچ جیسی عام سمجھی جانے والی برائی ابو کی ذات سے عنقا تھی۔ بطور صحافی بہت سے مواقع ایسے آئے کہ جب وہ بیشمار مفادات سمیٹ سکتے تھے۔ لیکن اپنے اور اپنے اہل و عیال کیلئے اپنے پیشے سے فائدہ اٹھانے کو وہ گناہ سے کم نہ سمجھتے تھے۔ مشرف دور میں میں نواز شریف صاحب کی جلاوطنی کے دوران جب انہوں نے ابو کو اپنی سوانح عمری لکھنے کی پیشکش کی تو کہنے لگے کہ آپ اپنی فیملی سمیت میرے پاس جدہ شفٹ ہو جائیں۔ لیکن ابو کا موقف اس وقت بھی واضح رہا کہ نواز شریف صاحب کے ساتھ میری نظریاتی وابستگی ایک طرف لیکن میں سیاستدانوں سے کسی بھی قسم کا ذاتی مفاد ہرگز نہ لوں گا۔ درویشی و سادگی ابو کی ذات کا خاصہ تھی۔ اچھرہ میں واقع تقسیم سے پہلے اپنے والد صاحب کے تعمیر کردہ پرانی طرز پر بنے مکان میں رہتے اور اس پر فخر محسوس کرتے تھے۔ 2008ء میں میری بڑی بہن کی شادی کے موقع پر میاں نواز شریف صاحب جب ہمارے گھر مبارکباد دینے آئے تو ان کی آمد سے قبل اہل محلہ نے چہ مگوئیاں کیں کہ دو مرتبہ کا منتخب وزیراعظم ان خستہ حال گلیوں میں کیوں کر آئے گا۔ لیکن میاں صاحب کی آمد نے یہ ثابت کیا کہ مادیت پرستی ہی سب کچھ نہیں ہوتی بلکہ انسان کے کردار کی پختگی اور عمل کی سچائی اسے اللہ کے ہاں تو سرخرو کرتی ہی ہے دنیا میں بھی وہ عزت و تکریم دیتی ہے جو دولت کے پجاریوں کے نصیب میں نہیں ہوتی۔

ابو حقوق العباد کے داعی اور انسان دوست شخص تھے۔ مستحق و سفید پوش کی مدد وہ اللہ کے حکم کے مطابق اپنے دوسرے ہاتھ کو خبر دیئے بغیر کیا کرتے تھے اور ہمیں بھی اسی راہ پر چلنے کی تلقین کرتے تھے۔ قرابت داری نبھانے میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔ وہ اپنے بہن بھائیوں، ان کے بچوں اور دیگر رشتہ داروں سے بے انتہا محبت کرنے والے تھے اور ان کی ہر خوشی و غمی میں ان کا ساتھ نبھاتے تھے۔ عزیز و اقارب کیلئے بھی وہ ایک ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ وہ ابو کو اپنا بڑا مانتے اور دل سے ان کا ادب و احترام کرتے تھے۔ ہمارے محلے اور خاندان میں جب بھی کسی کی شادی ہوتی یا کوئی فوتگی ہو جاتی تو اپنے گھر کے دروازے سب کیلئے کھول دیا کرتے تھے۔ اس روایت کو میرے دادا نے شروع کیا اور ابو نے اس کو آخر دم تک نبھایا۔ خاص طور پر غمی کے موقع پر ہر خاص و عام کے دکھ میں برابر شریک ہوتے تھے۔ میت کو اپنے گھر کے صحن میں لا کر رکھتے اور وہیں سے جنازہ اٹھواتے تھے۔ یہ کام کر کے ان کو جو روحانی اطمینان حاصل ہوتا تھا الفاظ اس کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ زندگی کے آخری تین سال میں شدید بیماری کے باوجود میرے پھوپھا اور پھوپھی جو لا ولد تھے ان کی وصیت پر تن من دھن سے جامعہ مسجد زھرہ حمید کی تعمیر کرائی اور اپنی صحت کی پروا کیے بغیر بڑی محبت سے اللہ کے اس گھر کو مکمل کیا۔ تُسِرُون النَاظِرِین کی مثال پیش کرتی یہ مسجد اپنے رب کے حضور سربسجود ہونے والوں سے لبالب بھری رہتی ہے اور قیامت تک ابو سمیت ان تمام لوگوں کیلئے صدقہ جاریہ ہے جنہوں نے اس کار خیر میں حصہ لیا اور مسجد کی تعمیر کو یقینی بنایا۔ مسجد کی توسیع کا کام جاری و ساری ہے اور ان شاء اللہ مستقبل قریب میں مسجد ہذا میں ’’عطا الرحمن اسلامک لائبریری‘‘ کا اجرا کیا جائے گا جس کا مقصد ابو کے علم کی میراث کو زندہ جاوید رکھنا ہے۔ ان کے پیشے اور صحافت کے بارے میں کیا لکھوں کہ ان کے رفقائے کار اس بارے میں بہت کچھ قلمبند کر چکے ہیں۔ صحافت کا میدان ابو کیلئے ایک پیشہ نہیں بلکہ روحانیت و عبادت کا درجہ رکھتا تھا۔ انہوں نے یورپ، امریکہ اور وسطی ایشیا کے نصف سے زائد ممالک کا دورہ کیا اور اپنی صحافتی نگاہ کو وسعت دی۔ سوویت ریاستوں کے ٹوٹنے کا منظر انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کو اپنی کتاب ’’سوویت یونین کا زوال‘‘ میں قلمبند کیا۔ ان کی دوسری تصنیف ’’تحریک پاکستان کی تصویری داستان‘‘ قیام پاکستان  کے نشیب و فراز پر لکھی جانے والی ایک عمدہ تحریر ہے اور تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں کیلئے جوھر لاثانی کا درجہ رکھتی ہے۔ دور مشرف میں ان کا قلم شمشیر بدست بنا رہا اور اپنے بے لاگ تجزیوں سے انہوں نے آمریت کی بلا خوف و خطر مخالفت کی۔ ابو کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے 2015 میں انہیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ ان کی شخصیت مولانا امین احسن اصلاحی کی شاگردی اور مولانا مودودی کی مریدی کی عکاس تھی۔

ابو کو اپنے کام سے جنون کی حد تک لگاؤ تھا۔ تا دم آخر وہ بسے کی برفی کے بغیر تو شاید زندہ رہ سکتے تھے لیکن اخبارات و کتب کا مطالعہ کیے بغیر نہیں۔ وہ صحتمند ہوتے یا حالت بیماری میں، میں نے ان کو ہمیشہ جہد مسلسل کرتے ہی پایا تھا۔ وفات سے پندرہ روز قبل اپنا کالم مجھے لکھواتے وقت ان کی طبیعت سخت خراب تھی۔ عام طور پر اچھی خاصی طویل تحریر وہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹے میں لکھوا دیا کرتے تھے لیکن اس دن شدید نا سازیٔ طبع کے باعث کچھ سطور لکھوانے کے بعد ان پر غنودگی کی کیفیت طاری ہوتی رہی۔ اس طرح وہ کالم ہم نے ساڑھے تین گھنٹے میں مکمل کیا۔ کالم تمام ہونے پر انتہائی مطمئن ہوئے مجھ سے کہنے لگے کہ جب میں اس دنیا سے چلا جاؤں اور اگر تم میرے بارے میں کچھ تحریر کرو تو میں نے جس حالت میں یہ کالم لکھوایا اس کا احوال ضرور لکھنا۔ وہ اپنی ذات میں بے شمار خوبیاں سموئے ہوئے تھے۔ ان جیسا سچا اور کھرا انسان، نڈر و بے خوف صحافی، شفیق و مہربان باپ، رہنما استاد، انسان دوست شخص اور ایک محب وطن پاکستانی صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔ بیشک وہ اس جہاں فانی سے کوچ کر چکے لیکن ان کے اعمال صالحہ لافانی ہیں جو قیامت تک مشعل راہ بن کر روشنیوں کے چراغ منور کرتے رہیں گے۔ رب تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، ہم بہنوں کو اپنے والد کیلئے صدقہ جاریہ بنائے اور ان کے اوصافِ حمیدہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

مصنف کے بارے میں