پاکستان کی آبادی 21 کروڑ سے تجا وز کر گئی

پاکستان کی آبادی 21 کروڑ سے تجا وز کر گئی

اسلام آباد: پاکستان کی چھٹی مردم شماری کے حوالے سے مختلف ذرائع سے ملنے والے غیر حتمی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی پانچویں مردم شماری 1998ء کی 13 کروڑ 23 لاکھ کے مقابلے میں چھٹی مردم شماری 2017ء میں بڑھ کر 21 کروڑ 31 لاکھ ہو گئی ہے۔ اس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی آبادی شامل نہیں ہے جو 60 لاکھ کے قریب ہے اور مجموعی آبادی 21 کروڑ 90 لاکھ سے زائد ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق 1998ء میں پنجاب کی آبادی 7 کروڑ 36 لاکھ تھی جو چھٹی مردم شماری میں 11 کروڑ 10 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔ سندھ کی آبادی 3 کروڑ 4 لاکھ تھی جو اب بڑھ کر 5 کروڑ 10 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔ خیبر پختونخوا کی آبادی ایک کروڑ 77 لاکھ تھی جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کر 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔ بلوچستان کی آبادی 65 لاکھ تھی جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کر ایک کروڑ 15 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔ فاٹا کی آبادی 31 لاکھ تھی جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کر 55 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی آبادی 8 لاکھ تھی جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کر 21 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 1998ء سے 2016ء تک 7 کروڑ 87 لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ ہوا ہے جو مجموعی طور پر تقریباً 60 فیصد اضافہ ہے۔ پنجاب میں یہ اضافہ 3 کروڑ 84لاکھ ہے جو 52 فیصد سے زائد بنتا ہے۔ سندھ میں یہ اضافہ 2 کروڑ 6 لاکھ ہے جو 68 فیصد سے زائد بنتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں یہ اضافہ ایک کروڑ 33 لاکھ ہے جو 75 فیصد سے زائد بنتا ہے۔ بلوچستان میں یہ اضافہ 50 لاکھ ہے جو 77 فیصد سے زائد بنتا ہے۔ فاٹا میں یہ اضافہ 24 لاکھ ہے جو 77 فیصد سے زائد بنتا ہے۔ ملک کے اہم شہروں کے حوالے سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق 1998ء میں وفاقی دارالحکومت کی آبادی 8 لاکھ تھی جو چھٹی مردم شماری میں بڑھ کر 21 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔ اسلام آباد میں شرح اضافہ 162 فیصد رہی ہے۔ کراچی کی آبادی 98 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ ہو گئی ہے اور یہاں شرح اضافہ 74 فیصد رہی۔ لاہور کی آبادی 63 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ 20 لاکھ ہو گئی ہے اور شرح اضافہ 90 فیصد رہی۔ راولپنڈی کی آبادی 33 لاکھ سے 56 لاکھ ہو گئی ہے اور شرح اضافہ 70 فیصد رہی۔ پشاور کی آبادی 20 لاکھ تھی جو بڑھ کر 40 لاکھ ہو گئی ہے اور شرح اضافہ 100 فیصد رہی۔ کوئٹہ کی آبادی 7 لاکھ 60 ہزار تھی جو اب بڑھ کر 20 لاکھ ہو گئی ہے اور شرح اضافہ 152 فیصد رہی۔ محکمہ شماریات کے حکام نے ان اعدادوشمار کی تردید یا تصدیق سے انکار کر دیا ہے۔ محکمہ شماریات کے ذرائع کے مطابق 1998ء کی شرح اضافہ جو 2.69 فیصد تھی اس حساب سے آبادی میں اضافہ 51سے 53فیصد تک ہونا چاہئے تھا مگر مجموعی اضافہ 60فیصد رہا ہے ، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی سالانہ شرح اضافہ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پانچویں مردم شماری 1998ء کی سالانہ شرح اضافہ کے مطابق پنجاب کا اضافہ ملتا جلتا ہے تاہم سندھ ،خیبر پختونخوا، بلوچستان اور فاٹا کی آبادی میں شرح اضافہ بہت زیادہ ہے۔ ماہرین بھی پنجاب کے سوا دیگر صوبوں میں شرح اضافہ پر حیران ہیں۔


نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں