ایران میں بچے کو پھانسی دے دی گئی، شدید مذمت جاری

ایران میں بچے کو پھانسی دے دی گئی، شدید مذمت جاری

تہران:جمعرات کو ایرانی حکام نے شیراز شہر میں قائم ایک جیل میں قتل کیس میں سزائے موت کا سامنا کرنے والے بچے علی رضا تاجکی کی سزا پرعمل درآمد کرتے ہوئے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ 


تفصیلات کے مطابق ایران میں قتل کیس میں سزائے موت کا سامنا کرنے والے بچے علی رضا تاجکی کی سزا پرعمل درآمد کرتے ہوئے پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے علی رضا تاجکی سزا پرعمل درآمد کی شدید مذمت اور تہران کے پالیسی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے علی رضا تاجکی کی سزا پرعمل درآمد کےرد عمل میں کہا ہے کہ جب علی رضا پر قتل کا الزام عاید کیا گیا اور اسے اس کیس میں حراست میں لیا گیا تب اس کی عمر صرف پندرہ سال تھی۔ عالمی قوانین کی رو سے18 سال سے کم عمر کے افراد کا شمار بچوں میں ہوتا ہے اور کسی بچے کو سزائے موت نہیں دی جاسکتی۔

خیال رہے کہ عالمی اداروں کی مسلسل اپیلوں اور بین الاقوامی دباو¿ کے بعد ایران علی رضا تاجکی کی سزائے موت کو متعدد بار موخر کرتا رہا ہے۔ مگر سزا میں تبدیلی کے بجائے بالآخر اسے پھانسی کےگھاٹ اتار دیا۔