مذاکرات کے آئندہ دور پاکستان سمیت کسی بھی ملک میں ہو سکتے ہیں، افغان طالبان

مذاکرات کے آئندہ دور پاکستان سمیت کسی بھی ملک میں ہو سکتے ہیں، افغان طالبان
بین الافغان مذاکرات کا پہلا دور قطر میں ہو گا، ترجمان افغان طالبان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

دوحہ: ساتھی قیدیوں کی رہائی کے بعد افغان طالبان نے جلد بین الافغان مذاکرات شروع کرنے کے ارادہ ظاہر کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ پاکستان پہلے کی طرح ان مذاکرات کی حمایت کرے۔ بین الافغان مذاکرات میں ہر چیز پر بات ہو گی اور یہ بھی کہ مذاکرات کے آئندہ دور پاکستان سمیت کسی بھی ملک میں ہو سکیں۔


افغان طالبان کے قطر میں سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے برطانوی خبر رساں ادارے کو ایک انٹرویومیں کہا کہ افغان مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کرنے لیے پاکستان کا کردار پہلے بھی اہم تھا اور اب بھی ضروری ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ چاہا کہ اس مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے اور ان کا اس میں ایک مثبت کردار رہا ہے۔

انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ بین الافغان مذاکرات میں ہر چیز پر بات ہو گی اور یہ بھی کہ مذاکرات کے آئندہ دور پاکستان سمیت کسی بھی ملک میں ہو سکیں۔

ترجمان افغان طالبان نے کہا کہ افغان حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ طالبان قیدیوں کو دوحا امن مذاکرات کے تحت بہت پہلے رہا کر دیتے لیکن اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور آگے بین الافغان مذاکرات شروع کرنے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکومت نے جو لویہ جرگہ بلایا تھا اس نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ قیدیوں کو رہا کر دیا جائے۔ بین الافغان مذاکرات کا پہلا دور قطر میں ہو گا جس کے بعد فیصلہ ہو گا کہ مذاکرات کے دور کہاں ہو سکتے ہیں۔

ترجمان طالبان سے پوچھا گیا کہ بین الافغان مذاکرات میں طالبان کے مطالبات کیا ہوں گے تو انھوں نے بتایا کہ ہمارے مطالبات واضح ہیں جس میں افغانستان میں افغان انکلوسیو اسلامی حکومت کی بنیاد ہے۔ ہمیں امید ہے کہ افغان عوام انکلوسیو حکومت کی بنیاد مانیں گے کیونکہ وہاں سب مسلمان ہیں اور وہ بھی یہی چاہتے ہیں۔

کیا بین الافغان مذاکرات سے قبل جنگ بندی کا کوئی امکان ہے؟ اس کے جواب میں سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ یہ موضوع مذاکرات کا حصہ ہے اور جب شروع ہو جائیں تب ہی جنگ بندی پر بات ہو سکتی ہے، مذاکرات شروع ہونے سے پہلے جنگ بندی پر بات کرنا قبل از وقت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سہیل شاہین نے بتایا کہ یہ تو ہماری پالیسی ہے کہ کسی دوسرے شخص یا گروپ کو امریکی اتحادی بن کر افغان سرزمین استعمال نہ کرنے دیں۔ یہ بات کہ افغان سرزمین کو کوئی گروپ یا شخص اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرے گا، دوحہ امن معاہدےکا حصہ ہے ۔ ہماری صفوں میں غیر ملکی جنگجو موجود نہیں۔ افغان حکومت کا صرف دعویٰ ہے، ان کے پاس ثبوت نہیں۔ ہمارے ساتھ جتنے لوگ ہیں وہ افغانستان، آزادی اور اسلامی نظام کے لیے لڑتے ہیں۔

مذاکرات کی کامیابی کے بعد افغانستان میں امن کی فضا قائم ہو سکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ افغانستان مسئلے کے دو رخ تھے جس میں ایک بیرونی قوتوں سے متعلق تھا ، جو امریکہ سے معاہدے کے تحت حل ہو چکا، دوسرا رخ بین الافغان مذاکرات کا ہے جس میں ہم فیصلے کریں گے اور یہ مذاکرات اگر کامیاب ہو گئے تو اگلا مرحلہ افغانستان کی تعمیر نو اوربحالی سمیت تجارت کا فروغ ہو گا۔ کامیاب مذاکرات میں سبھی کا بھلا ہے، افغانستان وسطی ٰایشیا کے ممالک کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرے گا۔

امن مذاکرات کے مخالفت کرنے والوں کو کس طرح آگے لے کر چلیں گے؟ اسکے جواب میں شاہین کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات کے حمایتی بھی ہیں اور مخالفین بھی۔ مخالفین کا فائدہ جنگ اور لڑائی میں ہے۔ افغان عوام اور سارے ممالک ان مخالفین کی نشاندہی کریں اور ان کا راستہ روکا جائے۔