حدیبیہ پیپر کیس کے حقائق سے متعلق لائیو شوز پر پابندی عائد

حدیبیہ پیپر کیس کے حقائق سے متعلق لائیو شوز پر پابندی عائد

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کھولنے کی نیب کی درخواست کی سماعت کے دوران حدیبیہ پیپر کے حقائق سے متعلق لائیو شوز پر پابندی عائد کر دی۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم خان پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کھولنے کی نیب کی درخواست پر سماعت کی۔


اس موقع پر نیب کے وکیل نے کہا کہ نیب پراسیکیوٹر کا عہدہ خالی ہے اس لئے مناسب ہو گا کہ اس اہم مقدمے میں پراسیکیوٹر خود پیش ہوں۔  جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ پراسیکیوٹر نیب کا عہدہ خالی ہونا کیس کے التوا کی کوئی بنیاد نہیں اور پراسیکیوٹر کی تقرری سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اور کیس ملتوی نہیں ہو گا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کا مذاق نہ اُڑائیں جبکہ ہمارے لیے ہر کیس ہائی پروفائل ہے کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں۔

جسٹس قاضی فائز نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ التوا کی درخواست کی ہدایت کس نے دی جس پر وکیل نے بتایا کہ التوا کی درخواست کا فیصلہ چیئرمین نیب کی سربراہی میں اجلاس میں ہوا۔ جس پر جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو پھر کیوں نہ ہم چیرمین نیب کو بلا لیں جس پر وکیل نے کہا کہ پراسیکیوٹر نیب کی سمری بھیجی جا چکی ہے جو جلد منظور ہو جائے گی جب کہ عدالت نے نیب کے وکیل کے دلائل کے بعد کیس ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔ اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ 10 دسمبر 2000 کو نواز شریف جلا وطن ہوئے تھے جس پر جسٹس فائز عیسی نے استفسار کیا اس وقت پاکستان کو کون سی حکومت چلا رہی تھی جس پر وکیل نے کہا کہ اس وقت چیف ایگزیکٹو پرویز مشرف تھے۔ جسٹس مشیر عالم نے سوال کیا کہ ملزم اٹک میں تھا تو طیارہ ہائی جیکنگ کیس کراچی میں کیسے چلا جب کہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ مفرور کا تو سنا تھا جلا وطنی کا حکم کیسا ہے۔

وکیل نیب نے بتایا کہ معاہدے کے تحت نواز شریف کو باہر بھیجا گیا اور وہ خود ملک سے باہر گئے تھے جس پر جسٹس قاضی عیسیٰ نے کہا کہ خود باہر گئے تھے تو مفرور قرار دینے کی کارروائی ہونی چاہیے تھی۔ کیا جلاوطن کی کوئی قانونی حیثیت ہے۔  ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے کہا تھا حدیبیہ کا تعلق پاناما سے ہے جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ اپنے ادارے پر خود حملہ آور ہو رہے ہیں اور آپ جو مثال قائم کر رہے ہیں وہ خطرناک ہے۔ پاناما میں آبزرویشن نہ آتی تو آپ اپیل دائر نہ کرتے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب کو کہا کہ آپ جو بات کر رہے ہیں وہ ایک اقلیتی نکتہ نظر ہے کیونکہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے جب معاملہ آئے گا تو پھر دیکھیں گے۔  عدالت نے حدیبیہ پیپر کے حقائق سے متعلق لائیو شوز پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کیس کی صرف رپورٹنگ کی اجازت ہو گی تبصروں کی نہیں۔ جس کے بعد عدالت نے ریفرنس کی مزید سماعت کل تک کے لئے ملتوی کر دی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں