نئی حکومت کے درمیان سی پیک کو وسعت دینے کا فیصلہ ہوا، چین

نئی حکومت کے درمیان سی پیک کو وسعت دینے کا فیصلہ ہوا، چین
معاشی ترقی کے ذریعے غربت اور انتہا پسندی کو ختم کیا جا سکتا ہے، یاؤ جنگ۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جنگ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سی پیک کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ ہوا ہے۔پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کے دوران چین کے سفیر یاؤ جنگ کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی کے ذریعے غربت اور انتہا پسندی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔


ان کا مزید کہنا تھا کہ چین کا ون بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ معاشی ترقی کا وژن ہے، اس کے تحت چین نے 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اس پروگرام کا مقصد ہمسایوں کے ساتھ ترقی کے شعبے میں تعاون کرنا ہے۔

چین کے سفیر کا کہنا تھا کہ ون بیلٹ ون روڈ وژن کے تحت سی پیک سب سے بڑا پروجیکٹ ہیں جس کے 22 منصوبوں میں سے کچھ مکمل ہو گئے ہیں اور کچھ پر کام جاری ہے۔ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سی پیک کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ ہوا ہے اور یہ فیصلہ وزیر اعظم عمران کے دورہ چین کے دوران ہوا ہے۔

یاؤ جنگ کا کہنا تھا کہ چین ہمسایہ ممالک کے مابین روابط کو فروغ دینا چاہتا ہے جبکہ چین خطے میں امن اور استحکام کا حامی ہے۔ جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی سب سے بڑا مسئلہ ہے اور افغانستان کا معاملہ سب سے اہم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین نے قیام امن کیلئے افغانستان اور بھارت کے ساتھ معاملات کے حل کے لئے بات چیت بھی کی ہے۔

خیال رہے وزیرِ اعظم عمران خان کے دورہ چین کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق دونوں ممالک 2005 میں مشترکہ طورپردستخط کردہ دوستی کے معاہدے کے رہنما اصولوں پر کاربند ہیں اور سیاسی تعلقات اور اسٹریٹجک بات چیت کو مضبوط بنانے کے لیے پُر عزم ہیں۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان اور چین اچھے ہمسائے ہونے کے ساتھ ساتھ قریبی دوست اور قابلِ بھروسہ شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک خطے میں اور اس سے باہر امن و استحکام اور ترقی کے لیے کام کرتے رہیں گے۔

چین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات ان کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے اور چین اپنے اہم مفادات میں پاکستان کی حمایت کی تائید کرتا ہے۔ پاکستان کو اس کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کی حفاظت کے لیے حمایت کا یقین دلاتا ہے۔