ڈاکٹر رمیش کمار کے شراب لائسنس منسوخی کے بل پر قومی اسمبلی میں رائے شماری نہ ہو سکی

 ڈاکٹر رمیش کمار کے شراب لائسنس منسوخی کے بل پر قومی اسمبلی میں رائے شماری نہ ہو سکی
PIC: Dr. Ramesh kumar Twitter

اسلام آباد:اراکین اسمبلی نے شراب کی فروخت روکنے کیلئے ڈاکٹر رمیش کمار کے بل پر رائے شماری نہ ہو سکی ۔


تفصیلات کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا کہ شراب تمام مذاہب میں حرام ہے لہذا اس کی فروخت کیلئے دیے جانیوالے اجازت ناموں کی منسوخی کیلئے رائے شماری کا مطالبہ کیا۔

ڈاکٹر رمیش کمار جو ۲۰۱۳ میں مسلم لیگ ن اور حالیہ عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوا ہیں انہوں نے قومی اسمبلی میں شراب کی روک تھام کیلئے بل پیش کیا اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کو اس بل پر رائے شماری کرانے کا مطالبہ کیا

اس بل پر پارلیمانی قانون سیکرٹری قانون ملیکہ بخاری نےڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری سے مطالبہ کیا کہ ایسا بل پہلے بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا جا چکا ہے لیکن اس پر کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا لہٰذا بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا جائے ۔ کمیٹی کے فیصلے تک اس بل پر قومی اسمبلی کے فلور پر کوئی رائے شماری نہ کرائی جائے ۔

ڈاکٹر رمیش کمار کے اس بل پر ڈپٹی اسپیکر نے قومی اسبلی سے رائے لی اور کثرت رائے کی سبب یہ بل پیش کرنے سے روک دیا گیا۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر رمیش کمار کے اس بل پر متحدہ مجلس عمل نے تو ان کی حمایت کی لیکن ان کی اپنی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے انہیں کسی قسم کی کوئی سپورٹ نہ حاصل ہوئی، متحدہ مجلس عمل نے شراب کے لائسنس کی منسوخی کے بل پر رائے شماری نہ کرانے پر ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔