مرنے کے بعد مجھ پر کیا بیتی؟ ایک پُراثر کہانی، آخری قسط

مرنے کے بعد مجھ پر کیا بیتی؟ ایک پُراثر کہانی، آخری قسط

آخری قسط


اور پھر ایک دن میری قبرمیں انسان کی شکل میں ایک آدمی آیا۔ جس سے بہت تیز خوشبو آرہی تھی۔ میں حیران ہوا کیونکہ مرنے کے بعد یہ پہلا انسان تھا۔ جو میں دیکھ رہا تھا۔ اُس نے مجھے سلام کیا اور جواب میں وعلیکم السلام کہا۔ اُس نے کہا۔ میں تمہیں بشارت دیتا ہوں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے گناہ معاف کئے ہیں۔

میں نے کہا اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔ آپ کون ہیں؟ میں پہلی دفعہ قبر میں انسان کی شکل دیکھ رہا ہوں۔ اُس نے کہا میں انسان نہیں ہوں۔ میں نے پوچھا تو کیا آپ فرشتے ہیں؟  بولا نہیں میں دراصل تمہارا نیک عمل ہوں۔ تمہاری نمازیں، تمہارے روزے، حج۔ انفاق فی سبیل اللہ اور صلہ رحمی وغیرہ وغیرہ کو اللہ تعالیٰ نے اس شکل میں تمہارے پاس بھیجا ہے۔

میں بہت خوش ہوا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ میں نے پوچھا تم اتنے لیٹ کیوں آئے؟

اُس نے کہا تمہارے گناہ اور تمہارے قرضے میری راہ میں رکاوٹ تھے اور جب اللہ تعالیٰ نے معافی کا اعلان کردیاتو میرے لئے راستہ کھل گیا۔

میں نے پوچھا  تو کیا اس معافی کے بدلے میں اللہ تعالیٰ مجھے جنت دے گا؟

اُس نے کہا یہ بات اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔ پھر اُس نے کہا قیامت کے دن میزان سے تمہاری جنت اور دوزخ جانے کا پتہ چلے گا۔

اُس کے بعد عمل صالح نے کہا کہ تمہارے کچھ نیک اعمال بالکل زندگی کی آخری گھڑیوں میں کام آگئے۔ میں نے پوچھا وہ کیا ہیں؟

اُس نے کہا اگر تمہیں یاد ہو تو مرتے وقت اللہ تعالیٰ نے تمہیں توفیق دی اور تم نے کلمہ تشہد پڑھا۔تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ فرشتوں کو کتنی خوشی ہوئی کہ تمہاری زندگی کا خاتمہ توحید پر ہوا۔ جبکہ شیطان تمہیں نصرانیت اور یہودیت کی تلقین کررہا تھا۔اُس وقت تمہارے اردگرد دوقسم کے فرشتے موجود تھے۔ ایک وہ جو مسلمانوں کی روحیں قبض کرتے ہیں اور کچھ وہ جو کافروں کی روحیں قبض کرتے ہیں۔جب تم نے کلمہ پڑھا تو وہ فرشتے چلے گئے جو کافروں کی روحیں قبض کرتے ہیں۔ اور پھر اُنہوں نے تمہاری رُوح قبض کر لی۔

میں نے پوچھا اس کے علاوہ بھی کوئی نیکی ہے؟

اُ س نے کہا ہاں ! جب تم نے ڈرائیور کو سگریٹ چھوڑنے کی نصیحت کی تو آج جو خوشبو تم سونگھ رہے ہو اُس نصیحت کی بدولت ہے۔ اس کے علاوہ اپنی والدہ کو تمہاری کال اور اُس کے ساتھ جو بھی تم نے باتیں کیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بات کے بدلے تمہارے لئے نیکیاں لکھ دیں۔مجھے یاد آیا جو باتیں میں نے والدہ سے کی تھیں مجھے پتا ہوتا تو میں اُن باتوں میں گھنٹہ لگا دیتا۔

پھرعمل صالح نے بتایا کہ زندگی کے آخری وقت میں ایک گناہ بھی تمہارے کھاتے میں لکھا گیا میں حیران ہوا۔ اورپوچھا وہ کیسے؟

عمل صالح بولا۔ تم نےبچی سے کہا میں تھوڑی دیر میں آجاﺅنگا۔ اس طرح تم نے اُسے جھوٹ بول دیا۔ کاش مرنے سے پہلے تم توبہ کر لیتے۔ میں رویا میں نے کہا اللہ کی قسم میراارادہ جھوٹ کا نہیں تھا۔ بلکہ میرا خیال یہ تھا کہ اس طرح وہ میرے آنے تک صبر کرلے گی۔

اُس نے کہا جو بھی ہو  آدمی کو سچ بولنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سچے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ اور جھوٹ بولنے والوں کو ناپسند کرتا ہے۔ لیکن لوگ اس میں بہت تساہل اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

پھر اُس نے کہا تمہاری وہ بات بھی گناہ کے کھاتے میں لکھدی گئی ہے جو تم نے ائیرپورٹ میں کاﺅنٹر پر بیٹھے ہوئے شخص سے کہدی  کہ اللہ تمہاراحساب کردے۔ اس طرح تم نے ایک مسلمان کا دل دُکھادیا میں حیران ہو گیا کہ اتنی اتنی معمولی باتیں بھی ثواب اور گناہ کا باعث بنی ہیں۔

عمل صالح نے مزیدبتایا کہ یہ انسانوں پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ جب وہ ایک نیکی کریں تو اللہ تعالیٰ اُسے 10گناہ بلکہ 700 گناہ بڑھا دیتا ہےاور بہترین اعمال وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہیں ۔

میں نے کہا پنج وقتہ نمازکے بارے میں کیا خیال ہے؟

عمل صالح نے کہا  کہ نماز، زکوۃ، صیام، حج وغیرہ تو فرائض ہیں ۔ میں ان کے علاوہ بھی تمہیں ایسے اعمال بتادوں گا جو اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں۔

میں نے کہا ۔ وہ کیا ہیں؟

بولا تمہاری عمر جب 20سال تھی تم عمرے کے لئے رمضان کے مہینے میں گئے تھے۔تم نے وہاں 100 ریال کی افطاری خرید کر لوگوں میں بانٹ دی۔ اس کا بہت اجر تم نے کمایا ہے۔

اس طرح ایک بار بوڑھی عورت کو کھانا کھلایا تھا۔ وہ بوڑھی ایک نیک عورت تھی۔ اُس نے تمہیں جو دُعائیں دی ۔ اُس کے بدلے اللہ تعالیٰ نے تمہیں بہت نیکیاں اور اجردیا ہے۔

میں تمہیں ایک اور بات بتادوں۔ ایک بار تم مدینہ جارہے تھے کہ راستے میں تمہیں ایک آدمی کھڑا ملا۔ جس کی گاڑی خراب ہوئی تھی تم نے اُس کی جو مدد کی ، اللہ تعالیٰ کو تمہاری وہ نیکی بہت پسند آئی اور تمہیں اُس کا بہت بڑا اجرملا ہے۔

اُس کے بعد میری قبر کھل گئی اوراُس میں بہت زیادہ روشنی آگئی اور فرشتوں کے گروہ درگروہ آتے ہوئے نظرآئے۔عمل صالح بھی.

ذرا سوچئے!

یہ کہانی عبرت کے لئے لکھی گئی ہے ۔ لیکن احادیث مبارکہ کے بیان کےمطابق ہے۔کیا اس کہانی کے سننے کے بعد بھی ہم آخرت کے لئے فکرمند نہیں ہوں گے؟  کیا اس کہانی کے بعد بھی ہم گناہ کریں گے؟کیا اس کہانی کے سننے کے بعد بھی ہم نماز سے غیرحاضر ہونگے؟

پہلی قسط پڑھیں

دوسری قسط پڑھیں

تیسری قسط پڑھیں

چوتھی قسط پڑھیں