ہر سال مُردوں کو قبروں سے نکالنے والا قبیلہ

جکارتا : انڈونیشیا میں ایک ایسا قبیلہ بھی ہے، جو اپنے مرنے والوں کو ہر سال قبر سے نکال کر ان کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔

ہر سال مُردوں کو قبروں سے نکالنے والا قبیلہ

جکارتا : انڈونیشیا میں ایک ایسا قبیلہ بھی ہے، جو اپنے مرنے والوں کو ہر سال قبر سے نکال کر ان کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق  انڈونیشیا میں ایک ایسا قبیلہ ہے ، جو ہر سال اپنے مردہ لوگوں کو قبروں سے نکال کر ان کی یاد کو تازہ کرتا ہے۔“ماماسا ” نامی قبیلے کے لوگ ستمبر کے ابتدائی ہفتے میں مردوں کو قبرستانوں سے نکال کر دوبارہ گھروں میں لاتے ہیں، چونکہ یہ لوگ مقامی رسم و رواج کے مطابق لاشوں کو حنوط کرکے دفن کرتے ہیں، اس لیے ان کی ممیاں طویل عرصے میں بھی خراب نہیں ہوتیں۔ تہوار کے دوران گھر لائے مردوں کو غسل دے کر انہیں نئے کپڑے پہنائے جاتے ہیں۔ ان کو پھر نئے سرے سے مسالہ لگا کر دفن کیا جاتا ہے۔


متحدہ عرب سے شائع ہونے والے اخبار ” البیان” نے برطانوی جریدے ڈیلی میل کے حوالے سے لکھا ہے کہ انڈونیشیا کے صوبے ” جنوبی سلا ویسی ” میں مردوں کو قبروں سے نکالنے کی تقریبات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ایک ہفتے تک جاری رہنے والی یہ رسم مذکورہ صوبے کے ” توراجا” نامی علاقے میں جاری ہے۔ توراجا کے لوگ ہر سال مردوں کو قبروں سے نکالتے ہیں۔ ان تقریبات کو جشن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس رسم کو مقامی زبان میں ” مائی نین ” کہا جاتا ہے۔ توراجا کے باسیوں کا تعلق ویسے عیسائی مذہب سے ہے۔ اور وہ اپنے مردوں کی عیسائی مذہب کے رواج کے مطابق تجہیزوتدفین کرتے ہیں۔ تاہم ان کا عقیدہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد بھی اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتا ہے۔ اس لیے سال بعد مردے کو اس مقام کی زیارت کرانا ضروری ہے ، جہاں اس کی موت واقع ہوئی ہو۔ اس کے بغیر مردے کی روح شدید تکلیف میں رہتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ، توراجا دنیا کا وہ واحد علاقہ ہے ، جہاں ہر سال کئی برس پرانی لاشوں کو لوگ پیروں پر چلتا دیکھتے ہیں۔ نیویارک نیوز نے اپنی ویب سائٹ پر ایک ایسی ویڈیو اپ لوڈ کی ہے۔ جس میں 80 برس پہلے فوت ہونے والے پیٹر سامبی سامبارا نامی شخص کی میت کو اپنے پیروں پر چلتا دیکھا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ، توراجا ایک پہاڑی علاقہ ہے ،کچھ برس پہلے تک یہاں بسنے والے ماما سا قبیلے کی اس عجیب رسم کے بارے میں دنیا کو کچھ معلوم نہیں تھا، تاہم اب مردے نکالنے کی رسم شروع ہوتے ہی مختلف ممالک کے سیاح یہاں پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں۔