چیف جسٹس کا لاہور میں رکاوٹیں ہٹانے کا حکم،پولیس مقابلوں کی رپورٹ ایک ہفتے میں طلب کرلی

چیف جسٹس کا لاہور میں رکاوٹیں ہٹانے کا حکم،پولیس مقابلوں کی رپورٹ ایک ہفتے میں طلب کرلی

ایک ہفتے میں یہ چیز دی جائے،چیف جسٹس ثاقب نثار نے پنجاب میں ہونیوالے پولیس مقابلوں کے حوالے سے ایسا حکم جاری کردیا کہ جان کر عمران خان خوش ہوجائیں


۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور : چیف جسٹس پاکستان نے پنجاب میں ہونے والے پولیس مقابلوں کی رپورٹ ایک ہفتے میں طلب کر لی ہے۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سکیورٹی کے نام پر رکاوٹوں کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے پنجاب پولیس سے پولیس مقابلوں کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو حکم دیا کہ رپورٹ ایک ہفتے میں پیش کریں۔

چیف جسٹس نے مزید حکم جاری کیا کہ لاہور میں جہاں بھی رکاوٹیں ہیں ان کو فوری طور پر ختم کیا جائے،جاتی امرائ،ایرانی قونصلیٹ،چینی قونصلیٹ،داتا دربار،ماڈل ٹاﺅن وزیر اعلیٰ پنجاب کے گھر کے باہر سے ،آئی جی پنجاب کے دفتر کے باہر سے ،ایوان عدل،جامعہ نعیمیہ،گورنر ہاﺅس اور پاسپورٹ آفس کے باہر سے رکاوٹیں ہٹائیں جائیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے شہباز شریف کے حوالے سے استفسار کیا کہ وزیراعلیٰ صاحب آپ تو عوامی آدمی ہیں پھر آپ کے گھر کہ باہر رکاوٹیں کیوں؟آپ کے بارے رپورٹس اچھی ہیں،میاں صاحب آپ عوامی آدمی ہیں رکاوٹیں کھڑی کر کے عوام کی کیا خدمت ہوگی اوریہ سیاست میں مداخلت نہیں آئین اور قانون کے تحت اقدامات ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میاں صاحب ایک آپ ہی تو ہیں جو عدلیہ کی عزت کر رہے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ پنجاب کے معاملات باقی صوبوں سے بہتر ہیں۔یاد رہے کہ عابد باکسر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے الزام عائد کیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے کہنے پر عابد باکسر نے جعلی پولیس مقابلے کئے اور انہوں نے سپریم کورٹ سے نوٹس لینے  کا بھی مطالبہ کیا تھا۔