آشنا حقیقت

آشنا حقیقت

وقت رک سا جا تا،آنکھیں کھل سی جاتی ہیں جب وطن کی ہوش گہرا اثر لیتی ہے۔ ایک ہی معاشرے کے ایک جیسے جذبات و احسا سا ت کے مالک،کیسے چند ایک افر اد کا گروہ جھونکوں کی طرح جکڑے ہوے آستینوں کو تھا مے ہوئے ہے ٗ وجہ عناد صرف ہوس اور ایسی ہوس کہ جو جانے کا نام نہیں لیتی


ہوس نے کر دیا ٹکڑے ٹکڑے نوع انسان کو

سنو!یہ ایک تماشہ،ایک گھناؤنے کھیل کے ساتھ چل رہا ہے_ ملکی تاریخ کی 71بہاریں بھیت گئیں لیکن ان جھو نکوں کو اتارنے والا کوئی پیدا نہیں ہواعوام کی آنکھوں میں پٹی ڈالے ہوئے دن کو بھی اندھیرا کر کے دکھایا جاتا ہےحال ہی میں شائع ہونے والی transparency international کی رپورٹ کے مطابق 2018میں پاکستان بدستور 2017 کی 117ویں نمبر پر برقرار ہےجبکہ انڈیا چودہ درجے بہتری کے ساتھ 78ویں نمبر پر ہےپانچ سال میں ملکی قرضے 15ہزار ارب ڈالرسے 28ہزار ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں تو یہ کارکردگی کا تانتا بندھا ہوا ثبوت ان کی اصل حقیقت سے پردہ اٹھاتاہے_

یہی سیاسی حکومتوں کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ civilian governments کی غیر فعال معاشی اور سیاسی پالیسیوں کی تاریخ،تصویر کے منظرنامے پہ واضح نظر آتی ہےپاکستان کی تاریخ میں سب سے فعال معاشی ترقی آمریت کے دور میں ہوتی رہی جس کا منہ بولتا ثبوت 1960 میں پاکستان کی GDP کی شرح 6فیصد پر پہنچ چکی تھی،جو کہ 1950 میں محض 3فیصد پہ کھڑی تھی اور پاکستان کا شمار Asian tigers میں ہونے لگا جس کا موازنہ چند ایک ایشین ممالک سے کروایا گیا تو معلوم ہوا کہ جنوبی کوریا کی 1960 میں per capital income اس وقت 158.2 فیصد تھی جو آج27538.8تک جا پہنچی ہے،چین 1960 میں89.5پہ موجود تھا جو آج 8123.2پہ کھڑا ہےپاکستان کی 1960میں per capital income 82.3 تھی جو آج 1468.2پر موجود ہے،انڈیا 1960 میں 81.3پہ کھڑا تھا جبکہ 2016تک 1709.4کی حد تک پہنچ چکی تھی جبکہ ملاییشیا 1960میں 234.9کی per capital income رکھتا تھا جبکہ آج 9502.6پر موجود ہے۔

آج کی اس ساری صورتحال میں civilian governments کو اپنی منفی پالیسیوں اور سیاسی مفادات کی خاطر اپنی اپنی بقاء کی جنگ لڑنے کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتااور جہاں تک 1960سے لے کر 2018تک کے معاشی منظر نامے کی بات کی جاتی ہے تو یاد رہے کہ 1960,1980اور 2000کی دہائیوں میں ملکی معیشت (جس کہ آمرانہ ادوار)تھے میں سب سے مضبوط معاشی اشاریوں پہ کھڑی تھی جبکہ 1990میں 4فیصد تک محدود رہنے والی معاشی شرح نمو پاکستان کی تاریخ کی بد ترین سطح ثابت ہوتی ہےجسکی بنیادی وجہ نواز شریف اور بینظیر حکومت کی بد انتظامی رہی جبکہ مجموعی طور پر آمریت کے ادوار میں پاکستان کی شرح نمو civil governmentsکے مقابلے میں 2.5تا1.5فیصد اضافی شرح نمو پر کھڑی نظر آتی ہے۔

جونہی civil governments نے ملکی بھاگ دور سنبھالی تو ناکام گورننس،سیاسی مفادات اور 1988 سے لے کر 1999تک جبکہ بعدازاں بھی pppاور

(PMLN)ایک دوسرے کی گورنمنٹ گرانے میں کسی نہ کسی طرح سازشیں کرتی رہیں جس میں ماضی کی طرح کامیابی تو نہ مل سکی لیکن اس کا منفی اثر ملکی معیشت پر بری طرح نظر آتاہےEconomic comparison2012-2018کے مطابق پاکستان کی معاشی growthمیں صرف 22فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا،انڈیاکیgrowthمیں43 فیصد اضافہ جبکہ چین کی growthمیں اسی دورانیے میں 48فیصد اضافہ رہایہی ایک واضح فرق civil governments کی کارکردگی پہ سوالیہ نشان چھوڑے ہوئے ہے۔

فہد وحید سرویا

(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)