پاناما کیس میں شیخ رشید کے عوامی اسٹائل میں دلائل ، قطری خط کو رضیہ بٹ کا ناول قراردیدیا

پاناما کیس میں شیخ رشید کے عوامی اسٹائل میں دلائل ، قطری خط کو رضیہ بٹ کا ناول قراردیدیا

اسلام آباد: پاناما کیس کی سماعت کے دوران شیخ رشید نے اپنے دلائل کے دوران قطری خط کو رضیہ بٹ کا ناول اور قطری شہزادے کو نواز شریف کے لیے ریسکیو 1122 قرار دیا تو کمرہ عدالت کشت زعفران بن گیا۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے پاناما معاملے پر ازخودنوٹس لینے کا مطالبہ بھی کردیا ۔ شیخ رشید نے سپریم کورٹ سے پاناما کے معاملے پر ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کردیا ۔سماعت کے دوران ایک موقع پر شیخ رشید نے  قطری خط کو رضیہ بٹ کا ناول اور قطری شہزادے کو  وزیر اعظم نوازشریف کے لیے ریسکیو 1122 قرار دیا تو ،کمرہ عدالت قہقموں سے گونج اٹھاجس پرجسٹس عظمت سعید نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سنجیدگی سے معاملہ چلائیں، 

عدالت میں بیٹھے لوگ بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، اگر سنجیدہ نہیں ہوں گے تو عدالت سنجیدہ کرنا جانتی ہے۔
شیخ رشید نے اپنے دلائل کے دوران کہا کہ انیس سال میں توہمارے بچوں کا شناختی کارڈ نہیں بنتا جبکہ شریف خاندان کے بچے ارب پتی بن جاتے ہیں۔بارہ ملین درہم کے حوالےان کا کہنا تھا کہ عام بات ہے کہ 12 ملین درہم میں اسٹیل مل کے نٹ بولٹ بھی نہیں آسکتےمل کیسے لگ گئی۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ شریف خاندان نے اپنی وفادار بیوروکریسی بھرتی کر رکھی ہے،نواز شریف تو خود اپنے زیر کفالت بھی نہیں، جبکہ مریم صفدر ہی لندن جائیدادوں کی حقیقی وارث ہیں۔انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ پاناما معاملے پر ازخود نوٹس لیاجائے اور وزیراعظم کو طلب کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: بنیادی فوکس لندن فلیٹس ہیں، سپریم کورٹ، پانامہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی

مصنف کے بارے میں