قصور: ننھی زینب کے قتل پر قصور سوگ میں ڈوب گیا ہے۔ تمام تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند ہیں اور صبح سے ہی مشتعل مظاہرین سول اسپتال کے باہر جمع ہو گئے۔ ڈنڈا بردار مظاہرین نے سٹیل باغ چوک کو ٹریفک کے لئے بند کر دیا۔ گزشتہ روز فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالے 2 افراد کے ذمہ دار 5 اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا۔

مشتعل مظاہرین نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال پر بھی دھاوا بول دیا۔ سپتال کی سیکیورٹی پر مامور سیکیورٹی گارڈز بھاگ گئے جبکہ پولیس بھی کہیں نظر نہیں آئی۔ اس صورتحال میں ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ بھی اسپتال سے چلا گیا۔ اِن ڈور، آؤٹ ڈور اور ایمرجنسی سمیت دیگر وارڈز کو تالے لگا دیئے گئے ہیں جبکہ لواحقین بھی مریضوں کو ایمبولینسز میں ڈال کر لے گئے۔

یاد رہے کہ چھ روز قبل 7 سالہ زینب اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن پڑھنے گئی تھی جہاں سے اسے اغوا کر لیا گیا جس کے بعد گزشتہ روز پولیس کو زینب کی لاش شہباز خان روڈ پر کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی۔

اس حوالے سے ابتدائی طور پر پولیس کے ایک اہلکار کا کہنا تھا لگتا ہے کہ بچی کو 4 یا 5 دن پہلے قتل کیا گیا۔ اس واقعہ کے حوالے سے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی جس میں ایک شخص کو بچی کا ہاتھ پکڑ کر لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے تاہم پولیس اس واقعہ کے ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام نظر آئی۔ پولیس نے ملزم کا خاکہ بھی جاری کر دیا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں