بالوں کے گرنے کی بڑی وجوہات

بالوں کے گرنے کی بڑی وجوہات

یوں تو بالوں کا گرنا ایک قدرتی عمل ہے لیکن اس عمل کی زیادتی ہماری پریشانی کا باعث بن سکتی ہے ۔ایک نئی تحقیق کے مطابق روزانہ 50 سے 100 تک بالوں کی لڑیوں کا گرنا قدرتی عمل  ہے اور اسی وجہ سے نئے بال آتے ہیں اور خام بال گر جاتے ہیں۔لیکن اگر تیزی سے بال گرنا شروع ہو جائیں توانھیں وقت پرروک لینا منا سب ہوتا ہے۔


ہارمونز میں تبدیلی:

ماہرین کےمطابق ایک حد سے زیادہ بالوں کا گرنا ہارمونز کی تبدیلی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ہارمونز میں تبدیلی دوران حمل ،بچے کی پیدائش کے وقت اور تھارائیڈ کی شکایت کی وجہ سے ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں بال تیزی سے گرتے ہیں۔

سر میں انفیکشن:

اسکلپ انفیکشن بھی بالوں کے گرنے کی بڑی وجہ بتائی جاتی ہے ۔ یہ بالوں کی جڑوں کو کمزور کرتا ہے اور بالوں کی نشوونما کو روکتا ہے۔اس کے باعث خشکی تیزی سے بڑھتی ہے جس سے بالوں کی بڑھنے کی رفتار میں کمی آجاتی ہے ۔

موروثی بالوں کے جھڑنا:

ایک تحقیق کے مطابق بالوں کے گرنے کی وجہ اکثر والدین یا خونی رشتوں کی وراثت کے طور پر بھی پائی جاتی ہے جو اکثر بیماری کی شکل بھی اختیار کرلیتی ہے اور اس کا اگر بر وقت اس کا علاج نہ کیا جائے تو بالوں کا گرنا معمول ہوجاتا ہے ۔

تھائی رائیڈ کی شکایت:

تھائی رائیڈ ہارمونز انسانی صحت کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا تعلق جسم کے میٹابولک ریٹ سے لے کر بالوں اور ناخن کے بڑھنے تک ہے لیکن جب یہ جسم کو متوازن مقدار میں نہیں ملتے تو جسم کے نظام میں تبدیلی رونما ہونے لگتی ہے جس سے بالوں کے جھڑنے کا عمل پیدا ہوجاتا ہے۔

آئرن کی کمی:

جسم میں آئرن کی کمی کے تحت بھی بالوں کی نشوونما کمزور پڑ جاتی ہے اور بال گرنے لگتے ہیں۔وہ خواتین جو دوران حیض صحت مند غذا لینے میں لاپرواہی کرتی ہیں ان میں اکثر آئرن کی کمی ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے انکے بال گرنے لگتے ہیں۔

بالوں کو رنگنا:

اکثر خواتین بالوں کو مزید خوبصورت بنانے کیلئے مختلف رنگوں کا استعما ل کرتی ہین جن میں بہت زیادہ کیمیکل استعمال کیے جاتے ہیں۔ انکے استعمال سے بالوں کو چمک تو مل جاتی ہے لیکن بال بے رونق اور کمزور ہو جاتے ہیں۔