بڑی سیاسی جماعتوں کی مہنگی ترین میڈیا مہم نے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی

بڑی سیاسی جماعتوں کی مہنگی ترین میڈیا مہم نے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی

فوٹو بشکریہ فیس بک

اسلام آباد: عام انتخابات 2018 میں حصہ لینے والی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کی مہنگی ترین میڈیا مہم نے انتخابی عمل کی ساکھ پر سوالات اٹھا دیے، بھاری اخراجات کی استعداد کار نہ رکھنے والی جماعتوں کے مساوی مواقع کے حق پر حرف آنے لگا، بھاری مالی وسائل نہ رکھنے والی جماعتیں مہنگی میڈیا کی دوڑ سے باہر ہو گئیں۔

تفصیلات کے مطابق تینوں بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ٹی وی چینلز پر اشتہارات کے لیے غیر معمولی اخراجات کیے جا رہے ہیں جن کے لیے اربوں روپے کے بلز ادا کیے جائیں گے۔ سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کے بارے میں متفقہ ضابطہ اخلاق پر حرف آرہا ہے جس کا کسی بھی طرف سے کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا ہے۔

بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے ٹی وی چینلز پر بھاری اخراجات سے درجنوں پارٹی نغمے چلوائے جا رہے ہیں جس سے وسیع مالی وسائل نہ رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔ بعض سیاسی حلقوں کے مطابق انتخابی تاریخ کی اس مہنگی ترین مہم سے انتخابات 2018 کی ساکھ پر حرف آسکتا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: عام انتخابات کیلئے سیکیورٹی انتظامات، نگران وزیراعظم تمام صوبوں کا دورہ کریں گے
   

پوسٹرز، ہینڈ بلز، پمفلٹس ، بینرز اور پورٹریٹس کے لیے بھی ضابطہ اخلاق میں سائز جاری کیا گیا ہے ہورڈنگز بل بورڈز دیواروں پر لکھائی اور کسی بھی سائز کے پینا فلیکس پر مکمل پابندی ہے اور اسکی خلاف ورزی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے جس کی برملا خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی گئی ہیں جب کہ انتخابی قانون 2017 کے تحت قومی اسمبلی کے امیدوار کے لیے 40 لاکھ روپے صوبائی اسمبلی کے امیدوار کے لیے 20لاکھ روپے انتخابی خرچہ کی حد مقرر کی گئی بڑی جماعتوں کے ساتھ ان کے امیدواروں کی طرف سے بھی انتخابی اخراجات کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں: آئندہ آنے والی حکومت سے متعلق مفاہمت کے بادشاہ نے بڑا دعویٰ کر دیا
   

 ایک طرف امیدواروں کی بڑی بڑی ریلیاں پینا فلیکس ہورڈنگز پر بھاری اخراجات کیے جا رہے ہیں دوسری طرف آزاد وخود مختیار الیکشن کمیشن کی بے بسی کا اظہار ہورہا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور بڑی جماعتوں کے امیدوار کے غیر معمولی بھاری اخراجات پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی چپ سادھ رکھی ہے جس پر دیگر جماعتوں میں گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ بھاری مالی وسائل نہ رکھنے کی وجہ سے مہنگی میڈیا کی دوڑ سے باہر ہو گئی ہیں اور بڑی جماعتوں کے غیر معمولی اشتہار سے مساوی مواقع کے حق پر حرف آ نے لگا۔

 

 

 

 نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں