پابندیوں کے بعد قطر ائر پورٹ ویران ہو گیا

پابندیوں کے بعد قطر ائر پورٹ ویران ہو گیا

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے قطر کے سفارتی اور تجارتی بائیکاٹ کے بعد قطر کا حمد بین الاقوامی ہوائی اڈہ ویران اور سنسان ہے۔


العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دوحہ میں واقع حمد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اندرونی مناظر کی تصاویر موصول ہوئی ہیں، جہاں ہرطرف ہو کاعالم ہے۔

سیاحت اور فضائی سفرسے معلق معلومات شائع کرنے والی ویب سائیٹ ’The Points Guy‘ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں لندن سے دوحہ جانئ والی قطری ایئرلائن کی پرعوز A380 کے اندرونی مناظر بھی جاری کیے ہیں۔ اس دیو قامت ہوائی جہاز کی بالائی منزل میں کوئی ایک مسافر بھی موجود نہیں تاہم نچلے حصے میں چند ایک مسافر دیکھے جاسکتے ہیں۔

رپورٹ مرتب کنندہ الیکس ماشیراس بھی اسی پرواز میں دوحہ پہنچے۔ انہوں نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ وہ حمد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو سنسان حالت میں دیکھ کر حیران رہ گئے۔ کہیں کوئی ایک مسافر بھی وہاں نہیں تھا۔ ہوائی اڈے پر صرف وہی افراد نظر آئے جو لندن سےان کے ہمراہ A380 پرواز کے ذریعے دوحہ پہنچے تھے یا جہاز کا عملہ تھا۔ اس کے سوال اور کوئی مسافر نہیں دیکھنے کو نہیں ملا۔

ماشیراس کا کہنا ہےکہ وہ پلیٹ فارم پر پہنچے تو وہاں پراس وقدر خاموشی تھی کہ سوئی گرنے کی آواز بھی سنائی دیتی۔

ماشیراس کا کہنا ہے کہ قبرصر کے لارنکا شہر اور دوحہ کے درمیان براہ راست پرواز نہیں کیونکہ قبرص جانے کے لیے قطری ہوائی جہازوں کو اردن اور یا سعودی عرب کی سمت سے جانا ہوتا، فی الحال ان دونوں ملکوں کی فضائی حدود قطری پروازوں کے لیے بند ہیں۔

ویب سائیٹ کی رپورٹ کےمطابق ہوائی اڈے پرمسافروں کی رہ نمائی کے لیے لگی اسکرینوں پر منسوخ ہونے والی پروازوں بالخصوص قطر سے ابو ظہبی، مدینہ منورہ،جدہ کی پروازوں کی تفصیلات ہیں جب کہ دبئی کی پروازوں کا اسکرین پر کوئی تذکرہ نہیں۔

سیکیورٹی پوائنٹس پر چیکنگ کے لیے لگائی گئی مشینیں بند ہیں۔ وہاں پر کوئی ایک آدھ اہلکار دیکھا جاسکتا ہے۔

ہوائی اڈے پر زرد رنگ کے ڈمی ریچھ کے آس پاس سیلفیاں بنوانے والے مسافروں کا ہمیشہ ھجوم رہتا تھا آج تن تنہا زبان حال سے ہوائی اڈے کی کسمپرسی کا نوحہ کہہ رہا ہے۔

’ڈیوٹی فری‘ پوائنٹ پرکوئی گاہک نہیں۔ ماشیراس وہاں پہنچنے والا اکیلا مسافر تھا۔

بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے قائم کردہ ’المرجان‘ پلیٹ فارم بھی مسافروں سے کچھا کھچ بھرا رہتا تھا انسانوں سے خالی تھا۔ وہاں پر صرف فوروں سےاچھلتے پانی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔

ہوائی اڈے میں ہوٹل زون چند ایک ملازمین نظرآئے مگر وہاں پر بھی کوئی مسافر نہیں تھا۔