پاکستان جلد بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیوں کا محور بن جائے گا: سرتاج عزیز

پاکستان جلد بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیوں کا محور بن جائے گا: سرتاج عزیز

اسلام آباد: ایک انٹرویو میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کیساتھ پاکستان کے کثیر جہتی تعلقات ہیں اور تنظیم کا مکمل رکن بننے کے بعد مختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع، کاروباری روابط اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔


 مشیر خارجہ نے قازقستان میں وزیراعظم نواز شریف کی روس اور افغانستان کے صدور کے ساتھ ملاقاتوں کو انتہائی مثبت اور تعمیری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان حالیہ برسوں میں دفاعی تعاون میں اضافہ ہوا ہے جسے آنیوالے وقت میں مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

سرتاج عزیز نے بتایا ازبکستان، قازقستان اور تاجکستان کے ساتھ ویزے اور کسٹم سے متعلق مسائل کے حل کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری اور شاہراہ قراقرم خشکی میں گھرے وسط ایشیائی ملکوں اور دیگر دنیا کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ ہوں گی۔

یاد رہے 9 جون کو پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بن گیا تھا۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان 2005 میں ایس سی او میں مبصرملک کی حیثیت سے شامل ہوا تھا جبکہ 2010 میں مستقل رکنیت کے لیے درخواست دی تھی۔ پاکستان کو رکنیت دینے کا فیصلہ اصولی طور پر 2015 میں روس میں منعقدہ ایس سی او کے سربراہوں کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ پاکستان ایس او سی کے اراکین میں شامل تمام مضبوط معشیت اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ممالک کے ساتھ تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں جڑا ہوا ہے۔ ایس او سی کی رکنیت سے پاکستان کو خطے کے مفادات، ترقی اور دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف تعاون میں مدد ملے گی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں