چینی کی قیمت کیوں بڑھی ، ذمہ دار کون ہے؟  جواب کمیشن رپورٹ میں نہیں،شاہد خاقان 

چینی کی قیمت کیوں بڑھی ، ذمہ دار کون ہے؟  جواب کمیشن رپورٹ میں نہیں،شاہد خاقان 

اسلام آباد :پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت نے تو لاک ڈائون کو نرم کر دیا ہے  لیکن ضروری ہے حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کروایاجائے، تمام ممالک نے اس پر بڑی سختی سے عملدرآمد کروایا ہے۔ صرف سماجی آگاہی سے بات نہیں بنے گی بلکہ اس پر عملدرآمد کروانا پڑتا ہے۔


پاکستان کے اکثر علاقوں میں تو لاک ڈائون ہوا ہی نہیں ہے ، میں کراچی بھی گیا اور پشاور بھی گیا مجھے تو کوئی لاک ڈائون نظر نہیں آیا۔ عملدرآمد کا سنجیدہ فقدان رہا ہے اور حکمت عملی کا بھی فقدان ہے، حکومت کیا کرنا چاہتی ہے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس سے کسی کو کورونانہیں ہوا، کوئی ایسی شہادت نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کے اجلاس سے ہوا ہو۔

پارلیمنٹ میں جس طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں اس سے کسی رکن کو کورونا  نہیں ہوسکتا۔ پیٹرول بحران کا حل یہ ہے کہ یا تو حکومت فوری طور پر تیل کی خصوصی قیمت کا اعلان کر دے یا 15روز بعد تیل کی قیمت مقرر کردے، یہ دونوں اس کے حل ہیں۔ پاکستان  اسٹیل مل چلنی نہیں ہے میں صرف یہ کہتا ہوں کہ مزدوروں کا خیال کریں، ادارہ نہ چلنے میں مزدوروں کا قصور نہیں ہے۔

اگر اسٹیل ملز کے مزدور حکومت کی جانب سے دی جانے والی گولڈن ہینڈ شیک اسکیم سے راضی ہیں تو ٹھیک ہے، قاضی کیا کرے گا بات ختم ہو گئی۔چینی کی قیمت کیوں بڑھی اور اس کا ذمہ دار کون ہے ان دونوں سوالوں کے جواب کمیشن کی رپورٹ میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شوگر کمیشن صرف ایک کام کے لئے بنا تھا کہ 2018میں پاکستان میں چینی کی قیمت کیوں بڑھی ہے اور اگر رپورٹ کے کور پیج کو  دیکھیں تو یہی لکھا ہوا ہے ، جو مشیر اور  معاون خصوصی  بنے ہوئے ہیں وہ روز  طرح ، طرح کے تماشے کرتے ہیں  اور پریس کانفر نسیں کرتے ہیں ، اس کا طریقہیہ کہ حکومت کا  متعلقہ ذمہ دار وزیر اسمبلی میں آکر بتائے کہ ملک کے اندر چینی کی قیمت میں 60فیصد اضافہ کیسے ہوا اور آج بھی حکومت اسے ختم نہیں کر سکی، اس کا جواب کسی کے پاس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کے معاملات اتنے آسان نہیں ہوتے ۔میرا بھی پانچ سال اس معاملہ سے تعلق رہا ہے اور لوگ مجھے بھی معلومات بھیجتے رہتے ہیں،  25اپریل کو  منسٹری آف پیٹرولیم ڈویژن نے آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل  (اوسی اے سی)کو ایک خط لکھا کہ آپ تمام امپورٹس بند کر دیں۔ اس خط کی کوئی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہے، جو اوسی اے سی ہوتی ہے وہ حکومت کو ایڈوائس کرتی ہے، حکومت کبھی او سی اے سی کو ایڈوائس نہیں کرتی، پیٹرول بحران کا سارا معاملہ وہاں سے پیداہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وقت تھا اور تیل سستا تھا تو آپ نے لوگوں امپورٹ نہیں کرنے دیا، ورنہ ا ئل کمپنیز تو ایسے موقع ڈھونڈتی ہیں کہ سستا تیل خرید کر ملک میں لے آئیں اور بعد میں اسے مہنگے داموں بیچ سکیں اور اس سے ان کو بھی فائدہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں تیل کی قیمت پی ایس او کے کارگوز جو اس مہینے آئے ہوتے ہیں ان کی بنیاد پر مہینے کہ پہلی  تاریخ کو مقرر کی جاتی ہے۔

مارچ میں جو کارگوز آئے ان کی بنیاد پر یکم اپریل کو  تیل کی قیمت مقررکی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسٹیٹ آئل ( پی ایس او) جلدی تیل امپورٹ نہیں کرسکتا کیونکہ حکومت کے پراسیس کو وقت لگتا ہے جبکہ نجی کمپنیاں تو ایک منٹ کے نوٹس پر شپ امپورٹ کر سکتی ہیں لیکن ان کو یہ مسئلہ ہو گیا ہے کہ ملک میں تیل کی قیمتیں پرانے سستے ریٹ پر ہے اور وہ آج جو مال لے کر آئے ہیں اور ان کے پاس جو مال پڑا ہوا ہے اس پر ان کو 10سے 15روپے فی لیٹر کا نقصان ہو گا اور کوئی شخص بھی نقصان پر مال تو نہیں بیچے گا اور ریفائنریز کا بھی یہی حال ہے، ریفائنریز بھی سستا کروڈ امپورٹ نہیں کرپائیں، اب مہنگا کروڈ ہے اور مصنوعات کی قیمت پرانی ہے اگر وہ مال بیچیں گے تو وہ بھی تباہ ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول بحران کا حل یہ ہے کہ یا تو حکومت فوری طور پر تیل کی خصوصی قیمت کا اعلان کر دے یا 15روز بعد تیل کی قیمت مقرر کردے، یہ دونوں اس کے حل ہیں۔ تیل کی امپورٹ روکنے کا فیصلہ میرے خیال میں کرنٹ اکائونٹ خسارے کو بہتر بنانے کے لئے کوشش تھی لیکن اس نے بڑا بیک فائر کیا ہے اور ایک غلط فیصلے کانقصان پوری صنعت کو ہوا ہے اور اگر اعتراف کر لیں گے کہ غلط فیصلہ ہو گیا تو بات ختم ہو جائے گی، اس کا حل بڑا سادہ ہے کہ قیمت کو دوبارہ تبدیل کرنا پڑے گا۔

  موجودہ پیٹرول بحران اس خط کا نتیجہ ہے جو وزارت پیٹرولیم نے جاری جس کی نظیر ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی ، یہ معاملہ او ایم سیز پر ڈالنا بالکل غلط بات ہے ، کوئی او ایم سی بی کروڑوں کا نقصان کر کے پیٹرول نہیں بیچے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے کا حل ڈی ریگولیشن میں ہے ، ایف آئی آرز درج کرنے میں نہیں ہے، آج قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کر دیں سارا معاملہ ٹھیک ہو جائے گا۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھاکہ پاکستان اسٹیل ملز قابل عمل یونٹ نہیں ہے، حکومتی سیکٹر میں اس میں اصلاحات نہیں ہو سکتیں ، ہم نے پی ٹی آئی کے خیبرپختونخوا حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو پیشکش کی کہ آپ اسٹیل مل کو ایک روپے میں لے لیں کسی نے نہیں لی، ہم نے اس کے بعد اسے بند کر دیا، اسٹیل ملز نے38ارب روپے سوئی سدرن کے دینے ہیں ، ہم نے مل ملازمیں کو تحفظ دیا اور سالانہ چھ ارب روپے کا بل ملازمین کا تھا تاہم اب وہ کم ہو کر ساڑھے تین ارب روپے سالانہ پر پہنچ گیا ہے کیونکہ ملاز مین ریٹائرڈ ہو گئے ہیں۔  اگر ہم مل چلاتے تو اس کا سالانہ نقصان15سے20ارب سالانہ ہونا تھا۔