'جو صوبہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کرے گا تو مکمل بند کر دینگے'

'جو صوبہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کرے گا تو مکمل بند کر دینگے'
اگر ہم احتیاط نہیں کریں گے تو ہسپتالوں پر پریشر بڑھتا جائے گا، وزیراعظم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث آئندہ چند روز کے دوران پاکستان میں اموات بڑھیں گی جبکہ ایس او پیز کی خود نگرانی کروں گا اور جس صوبے میں ایس اوپیز پر عملدرآمد نہیں ہ وگا ایکشن لیں گے اور صوبے کومکمل بند کر دیا جائے گا۔


کورونا صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے ہم نے بھارت جیسا لاک ڈاؤن نہیں کیا۔ لاک ڈاؤن کے دوران بھارت کے 84 فیصد گھرانوں کی آمدن کم ہوئی اور ہمسایہ ملک میں تین کروڑ نوجوان لوگ بیروز گار ہو گئے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت میں امیر طبقے کو لاک ڈاؤن سے فرق نہیں پڑا اور پہلے دن سے کہہ رہا تھا غریب لوگوں کا سوچنا ہو گا، ہم اس لیے بچے کیونکہ ہم نے پوری طرح لاک ڈاؤن نہیں کیا۔ احساس کیش پروگرام میں 120ارب روپیہ تقسیم کیا اور اس وجہ سے ہمارے بھارت جیسے حالات نہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پہلے دن سے کہہ رہا ہوں لوگوں کو غربت سے بچانا ہے۔ اپوزیشن نے پہلے 4 ہفتے بہت تنقید کی تاہم لاک ڈاؤن کے اثرات غریب پر پڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وائرس اوپر جا رہا ہے اور میں بتانا چاہتا ہوں کہ آئندہ چند روز کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ دنیا بھر کے حالات کو دیکھنے کے بعد سمارٹ لاک ڈاؤن کو ترجیح بنایا۔

وزیراعظم نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سب لوگ ایس اوپیز پر عمل کریں اگر ہم احتیاط نہیں کریں گے تو ہسپتالوں پر پریشر بڑھتا جائے گا۔ نیو یارک کے ہسپتالوں میں بھی وینٹی لیٹرز کی کمی ہو گئی ہے۔ اگر ایک محلے میں وائرس پھیلے گا تو اس پورے محلے کو بند کر دیا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پورے ملک کے ایس اوپیز کا جائزہ لوں گا اور وزیراعظم ہاؤس سے صورتحال کو مانیٹر کرونگا۔ میرے پاس روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ آئے گی اور جس صوبے میں ایس اوپیزپرعملدرآمد نہیں ہوگا ایکشن لیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ 70 سالوں میں پاکستان میں ہیلتھ سسٹم پر خرچ نہیں کیا گیا۔ صاحب اقتدار کو کھانسی آتی تھی تو بیرون ملک علاج کے لیے جاتے تھے اور صاحبِ اقتدار کو ہیلتھ سسٹم کی فکر ہی نہیں تھی۔