اپوزیشن لیڈر کی زندگی کو خطرے سے دوچار کرنا شرمناک ہے، مریم نواز

اپوزیشن لیڈر کی زندگی کو خطرے سے دوچار کرنا شرمناک ہے، مریم نواز
شہباز شریف کی پہلے سے کمزور صحت کو خطرے میں ڈالا گیا، مریم نواز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ دیکھو تم لوگوں نے شہباز شریف کے ساتھ کیا کر دیا۔ ان کا کورونا پازیٹو ثابت کرتا ہے کہ ان کے تحفظات غلط نہ تھے۔


مریم نواز نے شہبازشریف کا کورونا ٹیسٹ پازیٹو آنے پر ردعمل میں اپنے ٹویٹ میں کہا کہ شہباز شریف تمام انتقامی کارروائیوں کی شدت بارے جانتے ہوئے بھی لندن سے واپس آئے۔

ٹویٹ میں انہوں نے مزید لکھا کہ شہباز شریف قطعی طور پر احتساب کے عمل سے بچنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ اپوزیشن لیڈر کی زندگی کو خطرے سے دوچار کرنا شرمناک ہے۔

لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کی پہلے سے کمزور صحت کو خطرے میں ڈالا گیا ہے۔ انکی صحت بارے جانتے ہوئے یہ سب کرنے والوں کو ایک دن جواب دینا ہو گا اور اللہ تعالی شہباز شریف کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔

اس سے قبل شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز کا کہنا ہے کہ ان کے والد کا کورونا ٹیسٹ نیب دفتر میں پیش ہونے کے بعد مثبت آیا ہے۔

سلیمان شہباز نے اپنے بیان میں کہا کہ شہباز شریف نیب میں پیشی کے علاوہ گھر سے باہر نہیں نکلے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے نیب کو سوالنامہ بھیجنے یا اسکائپ کے ذریعے پیش ہونے کا کہا تھا لیکن نیب نے منع کر دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کا کورونا کا ٹیسٹ نیب آفس میں پیش ہونے کے بعد مثبت آیا ہے۔

سلیمان شہباز نے کہا کہ اگر شہباز شریف کو کچھ ہوا تو ہمارا خاندان چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال، وزیراعظم عمران خان اور معاون خصوصی شہزاد اکبر کے خلاف مقدمہ درج کرائے گا۔

خیال رہے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ شہباز شریف نے ماڈل ٹاؤن رہائشگاہ پر اپنے آپ کو قرنطینہ کر لیا ہے اور ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں۔

اس متعلق (ن) لیگ رہنما عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ قوم سے دعاؤں کی درخواست ہے، اللہ تعالی شہباز شریف کو جلد صحتیاب کرے اور شہباز شریف کو ان حالات میں نیب میں طلب کر کے انکی زندگی کو خطرے میں ڈالا گیا ہے۔ تحریری طور پر نیب کو متعدد بار آگاہ کیا کہ شہباز شریف کینسر کے مرض میں مبتلا رہے ہیں اور انکی قوت مدافعت عام لوگوں کی نسبت کم ہے۔ یہاں تک کہ ویڈیو لنک پر تفتیش کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔