سعودی عرب سے ادھار تیل خریدنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں: شوکت ترین

سعودی عرب سے ادھار تیل خریدنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں: شوکت ترین
سورس:   فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ سعودی عرب سے قرض پر تیل کی خریداری کیلئے مذاکرات جاری ہیں اور سعودی عرب نے پاکستان کو یہ رعایت دینے کی ہامی بھر لی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے سعودی عرب سے قرض پر تیل کی خریداری کیلئے مذاکرات جاری ہونے کا انکشاف تو کیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ پاکستان کتنا تیل ادھار پر لینا چاہتا ہے۔ 

قبل ازیں قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے کئے جانے والے شور شرابے اور احتجاج کے باوجود وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے 8 ہزار 487 ارب روپے کا مالی سال 22-2021ءکا وفاقی بجٹ پیش کیا۔

قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے جیسے ہی بجٹ تقریر شروع کی تو اس دوران اپوزیشن نے احتجاج اور شور شرابا شروع کر دیا جس سے بچنے کیلئے انہوں نے ہیڈ فون لگا لئے اور بجٹ تقریر جاری رکھی۔ 

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے، عمران خان کی قیادت میں معیشت کو کئی طوفانوں سے نکال کر ساحل تک لائے، ہمیں قرضوں کی وجہ سے دیوالیہ پن کی صورت حال کا سامنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مشکلات تو درپیش ہیں مگر معیشت کو مستحکم بنیاد فراہم کر دی گئی ہے، اب معیشت ترقی اور خوش حالی کی سمت رواں دواں ہے، بجٹ میں اگلے مالی سال کیلئے معاشی ترقی کا ہدف 4.8 فیصد رکھا گیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2018ءمیں ایک بہت بڑا چیلنج تھا اس پر قابو پالیا گیا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس ہو گیا ہے، 20 ارب کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو اپریل 2021ءمیں سرپلس کیا گیا۔