میرا راجپوت نے کہا میں ایک گھریلو خاتون ہوں اور مجھے ہاﺅس وائف کے لقب پر فخر ہے

میرا راجپوت نے کہا میں ایک گھریلو خاتون ہوں اور مجھے ہاﺅس وائف کے لقب پر فخر ہے

 میرا راجپوت نے کہا میں ایک گھریلو خاتون ہوں اور مجھے ہاﺅس وائف کے لقب پر فخر ہے

بالی ووڈ: عام طور پر بولی وڈ اسٹار معاشرے میں خواتین کی ترقی یا نظریہ حقوق نسواں کے لیے آواز بلند کرتے ہیں مگر ایک اداکار کی بیوی اس کے حق میں نظر نہیں آتیں۔خواتین کے عالمی دن (8 مارچ) پر ایک تقریب کے دوران شاہد کپور کی بیوی میرا راجپوت نے حقوق نسواں کی نئی لہر اور اداکار سے ارینج میرج کے حوالے سے تنقید پر سخت بیان دیا تھا۔


انہوں نے کہا  حقوق نسواں کی نئی لہر جارحانہ اور تباہ کن ہے، بلکہ ایک اصطلاح ' feminazi ' سامنے آئی ہے جس کا مطلب ہے کہ خواتین بھی تعصب میں مردوں کے برابر پہنچ چکی ہیں۔

شاہد کپور اور میرا راجپوت کو ایک ٹی وی پروگرام کافی ود کرن میں شرکت پر تنقید کا اس وقت سامنا کرنا پڑا جب شاہد کپور نے  والدین کی مرضی سے شادی کے نظام کی حمایت کی، جس میں ان کا کہنا تھا کہ محبت شادی کے بعد ہوتی ہے۔

اس حوالے سے میرا راجپوت نے کہا  میں ایک گھریلو خاتون ہوں اور مجھے ہاﺅس وائف کے لقب پر فخر ہے، آخر آپ ایک کامیاب گھر بنانے والی کیوں نہیں بن سکتے؟ اس میں ہر چیز آتی ہے ، مجھے میشا (اب سات ماہ کی بیٹی) کو اس دنیا میں لانے کے دوران مشکل کا سامنا ہوا، اب مجھے گھر میں رہنا اور بچی کے ساتھ وقت گزارنے سے محبت ہے، میں ایک گھنٹہ اس کے ساتھ رہنے اور پھر جلدی میں دفتر جانے کی زحمت نہیں اٹھانا چاہتی، ایسا نہیں کہ میں آج کے دور کی خاتون نہیں، آپ کبھی بھی جدت کے لیے اپنی روایات اور کردار کا سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔

ان کا مزید کہنا تھا ' میں گھر سے باہر نکل سکتی ہوں مگر میں نے میشا کے ساتھ وقت گزارنے کا انتخاب کیا، یہ میرا انتخاب ہے کہ گھر پر رہوں، ایک ورکنگ ماں کا اپنا انتخاب ہوسکتا ہے اور دونوں میں کوئی شرمندگی کی بات نہیں، درحقیقت حقوق نسواں مرد بمقابلہ عورت نہیں۔