عمر اکمل کی غیر موجودگی سے نقصان ہوا، سرفراز احمد

عمر اکمل کی غیر موجودگی سے نقصان ہوا، سرفراز احمد
پی ایس ایل فائیو میں اچھی کرکٹ نہیں کھیل سکے، کپتان سرفراز احمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

لاہور: پاکستان سپر لیگ کی دفاعی چیمپئین کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سرفراز احمد کہتے ہیں کہ عمر اکمل کا ہمیں بہت نقصان ہوا ہے۔ ان پچز پر عمر اکمل جیسے بیٹسمین کی ضرورت تھی، اعظم خان کے ساتھ مڈل آرڈرمیں عمر اکمل جیسے پاور ہٹر ہوتے تو اس کا بہت فائدہ ہوتا لیکن ان کی عدم موجودگی سے ہماری ٹیم کو بہت نقصان ہوا۔


‏دفاعی چیمپئین کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر آخری نمبر پر ہے، آٹھ میچز میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے صرف تین میچز میں کامیابی حاصل کی، اس نے ابھی مزید دو میچز کھیلنے ہیں جن میں سے ایک میچ آج ملتان سلطانز کے خلاف ہے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پی ایس ایل میں سب سے زیادہ سفر کرنا پڑا ہے جس کی آواز منیجمنٹ کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں نے بھی اٹھائی اور اسے خراب کارکردگی کی وجہ بھی قرار دیا لیکن کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے منیجمنٹ اپنا مؤقف دے چکی ہے ہم پروفیشنل کرکٹرز ہیں ہم نے اچھی کرکٹ نہیں کھیلی جو کہ کھیلنی چاہیے تھی،  بقیہ دو میچز میں جیتنے کی کوشش کریں گے اور دعا بھی کریں گے وہ ٹیمیں اپنے میچز جیتیں جنہیں ہم جیتتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔

کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل فائیو میں اچھی کرکٹ نہیں کھیل سکے، پی ایس ایل کے شیڈول اور ٹریولنگ کے بارے میں منیجمنٹ نے جو کہنا تھا کہہ دیا، ہم پروفیشنل کرکٹرز ہیں ہمیں کرکٹ کھیلنا ہے جو کہ ہم نے اچھی نہیں کھیلی ۔

انہوں نے کہا کہ ‏کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں نسیم شاہ اور محمد حسنین جیسے تیز رفتار بالرز شامل ہیں لیکن سرفراز احمد سمجھتے ہیں کہ ہمیں باؤلنگ میں ناتجربہ کاری کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، محمد حسنین اور نسیم شاہ باصلاحیت تیز بالرز ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں پلان پر بھی عمل کرنا ہو گا جس کی کمی نظر آئی، ابھی وہ ناتجربہ کار ہیں، وہ جتنا کھیلیں گے ان کی کارکردگی میں نکھار آئے گا۔

سرفراز احمد نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کی پچز میں بھی بہت فرق ہے، یہاں بہت رنز بن رہے ہیں، کوالٹی پچز ہیں ان بیٹنگ پچز پر تجربہ کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور یہ بالرز جتنا کھیلیں گے اتنا تجربہ آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ میرا س وقت فوکس صرف پی ایس ایل پر ہے میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے لیے قومی ٹیم میں جگہ بنانے کے بارے میں نہیں سوچ رہا جو قسمت میں لکھا ہو گا وہ گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابتداء میں میری کارکردگی اچھی تھی اور پی ایس ایل کے میچز سے اعتماد میں اضافہ ہوا، لیکن اس کے بعد کارکردگی تھوڑی خراب ہوئی، بیٹنگ آرڈر بدلنے سے بھی فرق پڑا ہے لیکن میں پر امید ہوں کہ ابھی جو دو میچز باقی ہیں ان میں پرفارم کروں گا۔